خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 207 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 207

خطبات مسرور جلد چهارم 207 خطبہ جمعہ 21 / اپریل 2006 ء سے آئے ہوئے احمدی ہیں وہ بھی سمجھ سکیں۔گوا کثر کو اردو بھی آتی ہے لیکن انگریزی میں زیادہ آسانی ہے۔یہاں کے رہنے والے بھی ہیں جو بچے یہاں پلے بڑھے ہیں ان کو بھی انگریزی زبان زیادہ سمجھ آجاتی ہے۔سوائے چند ایک بڑی بوڑھیوں کے یا بوڑھوں کے یا ان پڑھوں کے، جن کو سمجھ نہیں آتی ان کیلئے ترجمے کا انتظام ہو سکتا ہے۔یا مختصراً اُردو میں کوئی پروگرام ہو سکتا ہے۔تو بہر حال غیر پاکستانی احمدیوں کے یہ شکوے دور ہونے چاہئیں کہ ہم یہاں آکر یوں محسوس کرتے ہیں جس طرح ہم جماعت کا حصہ نہیں ہیں یہ بہت خطرناک صورت ہو سکتی ہے۔ان نئے آنے والوں سے کام بھی لیں، ان کے شکوے دور کریں۔میں نے جائزہ لیا ہے، ان نئے آنے والوں کیلئے بعض سے میں نے یہ پوچھا ہے یہ کس حد تک صحیح ہے، بہر حال مجھے ان سے جو معلومات ملی ہیں یہی ہیں کہ یہاں ان کو با قاعدہ کوئی سکھانے کا انتظام نہیں ہے۔عورتوں کیلئے دینی تربیت کا تعلیم کا انتظام لجنہ کرے۔مردوں کے لئے ذیلی تنظیمیں انتظام کریں، مجموعی طور پر جماعت جائزہ لے۔اگر اس سلسلے میں ذیلی تنظیمیں پوری طرح فعال نہیں تو جماعتی نظام کے تحت انتظام ہواور نگرانی ہو۔اور جو ذیلی تنظیمیں سست ہیں ان کے بارے میں مجھے اطلاع بھی دیں۔تو جب اس طرح کام کریں گے تبھی ہر احمدی کو جماعت کا فعال حصہ بنائیں گے۔جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں بعض جیئن احمدیوں کو بھی شکوہ ہے کہ بعض دفعہ یہاں آکر وہ اپنے آپ کو او پر محسوس کرتے ہیں۔تو ان سے میں کہتا ہوں اس کا ایک یہ بھی علاج ہے۔وہ احمدی ہوئے ہیں انہوں نے زمانے کے امام کو مانا ہے اور سمجھا ہے وہ اپنے آپ کو اتنازیادہ جماعتی کاموں میں لگائیں کہ انتظامیہ ان سے کام لینے پر مجبور ہو۔تبلیغ کا بہت بڑا میدان خالی پڑا ہے۔ہر احمدی کے لئے کھلا ہے۔اس میں آگے بڑھیں ذاتی رابطے کر کے اور طریقے اپنا کر تبلیغ کا کام کریں۔اس کام کو زیادہ سے زیادہ وسعت دیں۔مردوں میں تو میں نے دیکھا ہے اللہ کے فضل سے نوجوانوں میں دوسری قوموں کے بھی کافی لڑکے کام کرنے والے ہیں۔بعض عورتوں اور بڑی عمر کے لوگوں کو اور عورتوں کو خاص طور پر چاہئے اپنی استعدادوں کے مطابق اور اپنے دائرے کے مطابق تبلیغ کے میدان میں آگے آئیں۔بہر حال انصار اللہ کی تنظیم اور لجنہ اماءاللہ کی تنظیم اور خدام الاحمدیہ کی تنظیم ان سب کو جائزے لینے چاہئیں کہ کیوں یہ شکوے پیدا ہوتے ہیں۔چاہے وہ دو چار کی طرف سے ہی ہوں لیکن شکوے رکھنے والے بے چینی پیدا کرنے کا باعث بن جاتے ہیں۔انصار اللہ کے صدر بھی شاید منی کے رہنے والے ہیں۔وہ آسانی سے اپنے لوگوں کی نفسیات دیکھ کر پروگرام بنا سکتے ہیں۔لجنہ کوبھی جائزے لینے کی ضرورت ہے۔غیر پاکستانی احمدیوں کی یا ایسے نوجوان پاکستانیوں کی جو لمبے عرصہ سے ملک سے باہر ہیں اور ان کا معاشرہ بالکل بدل چکا ہے ان کی فہرست بنائیں اور پھر دیکھیں کہ ان کو کس طرح جماعت kh5-030425