خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 193
خطبات مسرور جلد چهارم 193 انسان ہے جو ہر وقت اس کوشش میں ہو کہ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنا ہے۔خطبہ جمعہ 14/ اپریل 2006 ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”مبارک ہے وہ جو کامیابی اور خوشی کے وقت تقویٰ اختیار کرے اور بد قسمت ہے وہ جو ٹھو کر کھا کر اس کی طرف نہ جھکے“۔حکموں پر - ( ملفوظات جلد اول صفحہ 99 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس آپ لوگ جو اس خطہ زمین میں آئے ، بہت سے اس لئے یہاں آ کر پناہ گزین ہوئے کہ زمانے کے امام کو ماننے کی وجہ سے اپنے ملک میں آپ پر زندگی کا دائرہ تنگ کیا گیا تھا۔یہاں آ کر ذہنی یکسوئی بھی حاصل ہوئی اور مالی لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ نے نوازا ہے۔یہ سب باتیں اس چیز کا تقاضا کرتی ہیں کہ آپ اپنے تقویٰ کے معیار بڑھائیں ، ہر لحہ اور ہر آن خدا تعالی کو اپنی ڈھال بنائے رکھیں۔اس دنیا کی چکا چوند خدا کی یاد سے بیگانہ نہ کر دے بلکہ مزید اس کے آگے جھکنے والا بنا دے۔اللہ تعالیٰ کے تمام پر عمل کرنے والے ہوں۔اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پر اور اسوہ پر عمل کرنے والے ہوں۔اور آپ کے غلام صادق کی بیعت میں آ کر آپ کی توقعات پر پورا اترتے ہوئے کامل فرمانبرداری دکھانے والے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم سے کیا توقع رکھتے ہیں۔اس بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ: ”اے دے تمام لوگو! جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو۔( یعنی جو اپنے آپ کو میری جماعت میں شامل سمجھتے ہو )۔آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کئے جاؤ گے جب سچ سچ تقوی کی راہوں پر قدم مارو گے۔سو اپنی پنجوقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہو۔اور اپنے روزوں کو خدا کے لئے صدق کے ساتھ پورے کرو۔ہر ایک جو زکوۃ کے لائق ہے وہ زکوۃ دے اور جس پر حج فرض ہو چکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔نیکی کوسنوار کر ادا کرو اور بدی کو بیزار ہو کر ترک کرو۔یقیناً یا درکھو کہ کوئی عمل خدا تک نہیں پہنچ سکتا جو خود تقویٰ سے خالی ہے۔ہر ایک نیکی کی جڑ تقویٰ ہے جس عمل میں یہ جڑ ضائع نہیں ہوگی وہ عمل بھی ضائع نہیں ہوگا“۔کشتی نوح - روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 15) اس ضمن میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے تقویٰ کے معیار کو اونچا کرنے اور ہمیشہ جماعت میں اطاعت اور فرمانبرداری کی مثالیں قائم کرنے کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے بعد ایک ایسا انتظام فرمایا جو نظام خلافت کے ذریعے سے ہے۔اور اس نظام خلافت کے ساتھ ایک اور بھی نظام تھا۔ایک تو فرمانبرداری اور اطاعت کا نظام دوسرے خدا اور رسول کا پیغام پہنچانے کے لئے اور دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے نظام وصیت کا اجراء۔اور آج سے تقریباً 100 سال پہلے یہ اجراء ہوا تھا۔اور یہ جو وصیت کا نظام آپ نے جاری فرمایا تھا یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق تھا۔اور اس نظام میں شامل kh5-030425