خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 192 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 192

خطبات مسرور جلد چهارم 192 خطبہ جمعہ 14/ اپریل 2006 ء بھی دور کرنے کا باعث بن سکیں۔اور سب سے بڑھ کر اس روحانی پانی سے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا ہے غیروں کو بھی سیراب کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام استغفار کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : استغفار کے حقیقی اور اصلی معنے یہ ہیں کہ خدا سے درخواست کرنا کہ بشریت کی کوئی کمزوری ظاہر نہ ہو اور خدا فطرت کو اپنی طاقت کا سہارا دے اور اپنی حمایت اور نصرت کے حلقے کے اندر لے لے۔یہ لفظ نفر سے لیا گیا ہے جو ڈھانکنے کو کہتے ہیں۔سو اس کے یہ معنی ہیں کہ خدا اپنی قوت کے ساتھ شخص مستغفر کی فطرتی کمزوری کو ڈھانک لے۔یعنی جو بخشش مانگنے والا ہے اس کی فطرتی کمزوری کو ڈھانک لے۔لیکن بعد اس کے عام لوگوں کے لئے اس لفظ کے معنے اور بھی وسیع کئے گئے ہیں اور یہ بھی مراد ہے کہ خدا گناہ کو جو صادر ہو چکا ہو ڈھانک لے“۔یعنی ایک آدمی نے کوئی گناہ کر لیا ہے اس کو اللہ تعالیٰ ڈھانک لے۔لیکن اصل اور حقیقی معنے یہی ہیں کہ خدا اپنی خدائی کی طاقت کے ساتھ مستغفر کو جو استغفار کرتا ہے فطرتی کمزوری سے بچاوے اور اپنی طاقت سے طاقت بخشے اور اپنے علم سے علم عطا کرے اور اپنی روشنی سے روشنی دے کیونکہ خدا انسان کو پیدا کر کے اس سے الگ نہیں ہوا۔بلکہ وہ جیسا کہ انسان کا خالق ہے اور اس کے تمام قومی اندرونی اور بیرونی کا پیدا کرنے والا ہے ویسا ہی وہ انسان کا قیوم بھی ہے۔یعنی جو کچھ بنایا ہے اس کو خاص اپنے سہارے سے محفوظ رکھنے والا ہے۔پس جبکہ خدا کا نام قیوم بھی ہے یعنی اپنے سہارے سے مخلوق کو قائم رکھنے والا۔اس لئے انسان کے لئے لازم ہے کہ جیسا کہ وہ خدا کی خالقیت سے پیدا ہوا ہے ایسا ہی وہ اپنی پیدائش کے نقص کو خدا کی قیومیت کے ذریعے بگڑنے سے بچاوے“۔ریویو آف ریلیجنز جلد اول صفحہ 192-193) اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ مفت قیوم کے ذریعے سے اپنے آپ کو بگڑنے سے ہمیشہ بچائے رکھیں۔پس استغفار کا بھی ایک بہت وسیع مضمون ہے۔اپنی روحانی اور جسمانی بقا اور اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کے لئے احمدیوں کو بہت زیادہ اس طرف توجہ دینی چاہئے تا کہ جن انعاموں کے ہم وارث ہو چکے ہیں، ان کو تا قیامت پاتے چلے جانے والے ہوں۔پھر آپ نے ایک نصیحت یہ فرمائی تھی کہ تقوی طہارت، اللہ رسول کی سچی فرمانبرداری میں کوشش کریں، متقی وہ ہیں جو اپنے آپ کو دنیا کی لغویات سے بچا کر اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق زندگی بسر کرنے والے ہیں۔اس میں اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی آجاتے ہیں اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی بھی آجاتی ہے۔پس ایک احمدی کو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اپنی زندگی کو عبادتوں سے اور اللہ تعالیٰ کے حضور استغفار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ ہر قسم کے حقوق کی ادائیگی کے لئے اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہم میں طاقت پیدا ہو۔پس ایک متقی انسان سلجھا ہوا kh5-030425