خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 188
188 خطبہ جمعہ 14 / اپریل 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم الصَّلوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ كِتبًا مَّوْقُوْتًا) (النساء : 104 ) یعنی نماز یقیناً مومنوں پر وقت مقررہ پر فرض ہے اور یہ نمازوں کے اوقات پانچ مقرر کئے گئے ہیں اور بر وقت نماز کی ایک اہمیت ہے۔اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی حقیقت سے ہمیں آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر وقت جو نماز کا حکم ہمارے لئے مقررفرمایا ہے وہ اپنے اندر کیا اہمیت رکھتا ہے۔ہر نماز کی اہمیت آپ نے بڑی تفصیل سے بیان فرمائی۔اس وقت اس تفصیل میں تو جانا ممکن نہیں ہے تاہم مختصر یہ کہ انسان کی زندگی مستقل بلاؤں اور مصیبتوں میں گھری ہوئی ہے اور شیطان ہر وقت حملے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔پھر انسان کی زندگی میں مختلف کیفیات اور حالات پیدا ہوتے رہتے ہیں اس لئے ان بلاؤں اور مصیبتوں سے بچنے کے لئے اور شیطان کے حملوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لئے اور ان مختلف کیفیات اور حالات کے مطابق جو صورتحال پیدا ہوتی رہتی ہے اللہ تعالیٰ نے یہ فرض کیا ہے کہ دن کے پانچ حصوں میں اللہ کے حضور حاضر ہوا جائے اور جہاں انسان وقت پر نماز پڑھنے کی وجہ سے ان حملوں سے محفوظ رہے گا وہاں روحانیت میں ترقی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والا بھی ہوگا۔پس ہر احمدی کو وقت پر نماز ادا کرنے کی پابندی کرنی چاہئے اس کی اہمیت پر توجہ دینی چاہئے۔اس زمانے میں جب ہر طرف مادیت کا دور دورہ ہے اس طرف توجہ دینا اور زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔شیطان نت نئے طریقوں سے حملے کر کے انسان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔دل میں یہ وسو سے پیدا کرتا ہے کہ اگر تم نے اس وقت اپنا فلاں دنیاوی کام نہ کیا تو نقصان اٹھاؤ گے اس لئے پہلے اس کام کو نمٹا وہ نماز کا بھی وقت تو ہے لیکن بعد میں اسے جمع کر کے پڑھ لینا۔اور کیونکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ ہر زمانے میں شیطان نے مختلف طریقوں سے حملے کرنے ہیں، ہر زمانے میں انسان کی مصروفیات مختلف ہوتی ہیں۔اس لئے فرمایا کہ ایسی نمازیں جو تمہاری سستیوں اور جو تمہاری دنیاوی مصروفیات کی وجہ سے وقت پر ادا نہ ہونے کا احتمال ہو یا وہ احتمال رکھتی ہوں ان کی خاص طور پر حفاظت کرو۔کیونکہ پھر ایک نماز سے لا پرواہی آہستہ آہستہ باقی نمازوں سے بھی غافل کر دیتی ہے۔اس لئے فرمایا حفِظُوْا عَلَى الصَّلَواتِ وَالصَّلوةِ الْوُسْطى (البقرۃ : 239 ) یعنی تم تمام نمازوں کا اور خصوصاً درمیانی نماز کا پورا خیال رکھو۔یہ نہیں فرمایا کہ فلاں نماز کی خاص طور پر حفاظت کرو، درمیانی نماز کی تعریف بھی مختلف لوگوں کے لئے مختلف ہو سکتی ہے۔ہر وہ نماز درمیانی ہے جس میں دوسری ترجیحات نماز کے مقابلے میں زیادہ ہوں اور جب انسان دوسری مصروفیات کو پس پشت ڈال کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کو تمام دوسرے دنیاوی مفادات پر ترجیح دے رہا ہوگا تو اللہ تعالیٰ ایسے عبادت گزاروں کی ضروریات خود ایسی جگہ سے پوری فرما رہا ہو گا کہ جہاں سے انسان کو گمان بھی نہیں ہو سکتا۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔اللہ تعالیٰ کوئی نیکی بغیر جزا کے نہیں چھوڑتا اور دونوں جہان کی نعمتوں سے نوازتا ہے۔kh5-030425