خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 186 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 186

186 خطبہ جمعہ 14 / اپریل 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم تو خدا اس کی حفاظت فرماتا ہے، اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق اپنے بندے کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے اور ایسی ایسی جگہوں سے ایسے ذرائع سے اس کی ضروریات پوری کرتا ہے کہ بندے کو اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔اپنی طاقتوں کی جو تصویر اللہ تعالیٰ نے ہمیں دکھائی ہے، ہمیں بتائی ہے، اپنے وجود کا جو فہم اور ادراک ہمیں دیا ہے وہ صرف ایسی چیز نہیں کہ صرف قرآن کریم میں ہی درج ہے جس کا کسی کو تجربہ نہ ہو۔خدا تعالیٰ کے خالص بندے اس بات کا تجربہ رکھتے ہیں اور آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ میں ہمیں اس کے کئی نمونے نظر آتے ہیں۔اور پھر اس دنیا کے انعاموں کے ساتھ ایسے بندے جو خدا کی طرف جھکنے والے ہوں ان کی اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق عاقبت بھی سنور جاتی ہے۔ایسے لوگوں کو اس دنیا سے جانے کے بعد اللہ تعالی دائمی جنتوں کی بشارت بھی دیتا ہے۔یہ بزرگ جن کا میں نے ذکر کیا ہے یعنی حضرت صوفی موسیٰ خان صاحب ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے الہاما نیک انجام کی خبر دی تھی۔تو یقینا آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تمام دعاوی پر مکمل ایمان اور اپنی عملی حالت کو ان نصائح کے مطابق ڈھالنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ خوشخبری دی ہو گی ، ان نصائح کے مطابق جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو لکھوائی تھیں۔پس یہ اللہ تعالیٰ پر کامل اور مکمل ایمان اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کی تعلیم پر صدق دل سے چلنا یقینا اللہ تعالیٰ کے دنیا و آخرت کے انعاموں کا وارث بناتا ہے۔آج بھی ہم اگر ان انعاموں کے وارث بننا چاہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنی ہوں گی تا کہ ہر وقت ہم اس کے فضلوں کے وارث ٹھہر سکیں۔اب میں ان نصائح کا ذکر کرتا ہوں جو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے حضرت صوفی صاحب کو لکھی تھیں۔پہلی بات دیکھی کہ آپ کی بیعت تو قبول ہو گئی ہے اب آپ کو چاہئے کہ نمازوں کو سنوار کر ادا کریں۔نماز ایک ایسی بنیادی چیز ہے جس کے بغیر مومن مومن نہیں کہلا سکتا۔اور پھر یہ کہ نماز پڑھنی کس طرح ہے۔سنوار کر ادا کرنی ہے۔نماز کو جلدی جلدی اس لئے ادا نہیں کرنا کہ میں نے اس کے بعد اپنے دنیاوی جھمیلوں کونمٹانا ہے۔نما ز سنوار کر پڑھنے میں بہت سے لوازمات شامل ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ نماز پڑھنے سے پہلے اپنی جسمانی صفائی کا خیال رکھا جائے اور سنتی اور کسل کو دور کیا جائے۔اس لئے ہمیں حکم ہے کہ وضو کر کے نماز پڑھیں۔جن گھروں میں نماز کی طرف خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی ان کے بچوں میں یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ صرف بچپنے میں ہی نہیں بلکہ بڑے ہو کر بھی ، جوانی میں بھی اور اس کے بعد بھی، کہ ایک تو نمازوں کی طرف توجہ نہیں ہوتی اور اگر کبھی کسی دوست کے ساتھ یا ویسے ہی مسجد میں آگئے تو بغیر اس بات کا خیال رکھے کہ وضو قائم ہے یا نہیں، اگر نماز کھڑی kh5-030425