خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 12
خطبات مسرور جلد چهارم 12 خطبہ جمعہ 06/جنوری 2006ء خلوص سے دیئے ہوئے ایک پیسے کی بھی بڑی قدر ہوتی ہے۔ایسے ہی یہ قربانی کا ذکر جماعت احمدیہ کی تاریخ میں اس طرح بھی محفوظ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں ایک معذور اور غریب آدمی تھے حضرت حافظ معین الدین صاحب کہ روایت میں آتا ہے ان کی طبیعت میں بڑا جوش تھا کہ وہ سلسلے کی خدمت کے لئے قربانی کریں حالانکہ ان کی اپنی حالت یہ تھی کہ نہایت تنگی کے ساتھ گزارا کرتے تھے اور بوجہ معذور ہونے کے کوئی کام بھی نہیں کر سکتے تھے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک پرانا خادم سمجھ کر لوگ محبت و اخلاص کے ساتھ کچھ نہ کچھ تحفہ وغیرہ ان کو دے دیا کرتے تھے۔لیکن حافظ صاحب کا ہمیشہ یہ اصول تھا کہ وہ اس روپیہ کو جو ان کو اس طرح لوگوں کی طرف سے تحفہ کے طور پر ملتا تھا، کبھی اپنی ذاتی ضرورت پر خرچ نہیں کرتے تھے ، بلکہ اس کو سلسلے کی خدمت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور پیش کر دیا کرتے تھے۔اور کبھی کوئی ایسی تحریک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے نہیں ہوئی جس میں انہوں نے حصہ نہ لیا ہو چاہے وہ ایک پیسہ ڈال کر حصہ لیتے۔کیونکہ جو ذاتی حیثیت تھی اس حیثیت سے جو بھی وہ قربانی کرتے تھے یہ کوئی معمولی قربانی نہیں تھی چاہے وہ پیسے کی قربانی تھی۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی کئی دفعہ حافظ صاحب کی خدمتوں کا ذکر فرمایا ہے اور بعض دفعہ یہ بھی ہوتا تھا کہ حافظ صاحب بھوکے رہ کر بھی یہ خدمت کیا کرتے تھے۔اصحاب احمد - جلد 13 صفحہ 293 پھر ایک اور دو بزرگوں کا نقشہ ہے جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود فرمایا ہے۔فرماتے ہیں: ھیں اپنی جماعت کے محبت اور اخلاص پر تعجب کرتا ہوں کہ ان میں سے نہایت ہی کم معاش والے جیسے میاں جمال الدین اور خیر الدین اور امام دین کشمیری میرے گاؤں سے قریب رہنے والے ہیں۔وہ تینوں غریب بھائی جو شاید تین آنے یا چار آنے روزانہ مزدوری کرتے ہیں سرگرمی سے ماہواری چندے میں شریک ہیں۔ان کے دوست میاں عبد العزیز پٹواری کے اخلاص سے بھی مجھے تعجب ہے کہ باوجود قلت معاش کے ایک دن سوروپیہ دے گیا کہ میں چاہتا ہوں کہ خدا کی راہ میں خرچ ہو جائے۔وہ سورو پیہ شاید اس غریب نے کئی برسوں میں جمع کیا ہو گا مگر تہی جوش نے خدا کی رضا کا جوش دلایا۔ضمیمہ انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 313-314) جہاں یہ مثالیں غریب اور نئے آنے والے احمدیوں کو توجہ دلانے کے لئے ہیں وہاں جو اچھے کھاتے kh5-030425