خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 179
خطبات مسرور جلد چهارم 179 خطبہ جمعہ 7 اپریل 2006 ء جسمانی طاقتوں کو دیکھے اور ان ایجادات اور سہولیات کی طرف دیکھے جو ان صلاحیتوں کی وجہ سے اسے ملیں تو بجائے خدا سے دور لے جانے کے اسے خدا کے قریب کرنے والی بنیں اور وہ اپنے مقصد پیدائش کو پہچاننے کے قابل ہو سکے۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا کہ ہر انسان پر اللہ تعالیٰ وحی کر کے رہنمائی نہیں کرتا اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک سنت رکھی ہوتی ہے اور وہ انبیاء کے ذریعہ اصلاح ہے جو وہ مختلف لوگوں میں بھیجتارہا ہے۔اور جب اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ انسان اپنی ذہنی صلاحیتوں اور قومی کے لحاظ سے اس قابل ہو گیا ہے کہ روحانیت کے اعلی ترین معیاروں کو حاصل کر سکے تو آخری شریعت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور دین مکمل کرنے اور اپنی نعمتوں کے انتہا تک پہنچنے کا اعلان فرمایا اور یہ اعلان فرمایا کہ اب قیامت تک یہی دین ہے جو قائم رہنے والا دین ہے۔اگر اس کے ساتھ چمٹے رہو گے تو دینی اور دنیاوی نعمتوں سے فائدے اٹھاتے رہوگے۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان بھی فرمایا کہ کچھ عرصے بعد ( آپ کی وفات کے کچھ عرصے بعد ) امت مسلمہ پر اندھیرا زمانہ آئے گا لیکن وہ مستقل اندھیرا زمانہ نہیں ہوگا بلکہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک عاشق صادق کو اللہ تعالیٰ دنیا میں بھیجے گا جو صیح و مہدی ہوگا۔ایسا نبی ہوگا جو آپ کی پیروی میں آنے والا نبی ہوگا وہ آ کر پھر اس اندھیرے زمانے کو روشنیوں میں تبدیل کرے گا۔وہ پھر مسلم اُمہ میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے روحانیت کے نور کی کرنیں بکھیرے گا۔اور نہ صرف مسلمانوں بلکہ کل اقوام عالم اور تمام مذاہب والوں کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرے گا۔وہ اس زمانے میں جب مادیت کا دور دورہ ہوگا بندے کو خدا سے ملانے اور اس کے مقصد پیدائش کو پہچاننے کی طرف توجہ دلائے گا۔اور اس سلسلے میں یعنی مسیح و مہدی کے آنے کے بارے میں سب سے زیادہ توجہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو دلائی ہے کہ جب وہ آئے تو چاہے برف پر گھٹنوں کے بل پر بھی جانا پڑے اسے جا کر میر اسلام کہنا کیونکہ وہی اللہ کا پہلوان ہے جو اس اندھیرے زمانے اور مادیت کے دور میں جب دنیا اپنے پیدا کرنے والے خدا کو بھلا بیٹھی ہوگی میری ( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے مطابق تمہیں تمہارے پیدا کرنے والے خدا سے ملائے گا تا کہ تم اپنے مقصد پیدائش کو پہچان سکو۔پس ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عاشق صادق اور خدا کے پہلوان کو پہچانا اور مانا اور اس مسیح و مہدی کی جماعت میں شامل ہوئے۔kh5-030425