خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 11 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 11

خطبات مسرور جلد چهارم 11 خطبہ جمعہ 06/جنوری 2006ء شخص خدا کے لئے بعض حصہ مال کا چھوڑتا ہے وہ ضرور اسے پائے گا۔لیکن جو شخص مال سے محبت کر کے خدا کی راہ میں وہ خدمت بجا نہیں لاتا جو بجالانی چاہئے تو وہ ضرور اس مال کو کھوئے گا۔یہ مت خیال کرو کہ مال تمہاری کوشش سے آتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔اور یہ مت خیال کرو کہ تم کوئی حصہ مال کا دے کر یا کسی اور رنگ سے کوئی خدمت بجالا کر خدا تعالیٰ اور اس کے فرستادہ پر کچھ احسان کرتے ہو بلکہ یہ اس کا احسان ہے کہ تمہیں اس خدمت کے لئے بلاتا ہے۔اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر تم سب مجھے چھوڑ دو اور خدمت اور امداد سے پہلو تہی کرو تو وہ ایک قوم پیدا کر دے گا کہ اس کی خدمت بجالائے گی۔تم یقیناً سمجھو کہ یہ کام آسمان سے ہے اور تمہاری خدمت صرف تمہاری بھلائی کے لئے ہے۔پس ایسا نہ ہو کہ تم دل میں تکبر کرو اور یہ خیال کرو کہ ہم خدمت مالی یا کسی قسم کی خدمت کرتے ہیں۔میں بار بار تمہیں کہتا ہوں کہ خدا تمہاری خدمتوں کا ذر مختاج نہیں ہاں تم پر یہ اس کا فضل ہے کہ تم کو خدمت کا موقعہ دیتا ہے“۔مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحه 497498 منقول از ضمیمه ریویو آف ریجنزار دوستمبر 1903ء) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ” میرے پیارے دوستو! میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مجھے خدائے تعالیٰ نے سچا جوش آپ لوگوں کی ہمدردی کے لئے بخشا ہے اور ایک سچی معرفت آپ صاحبوں کی زیادت ایمان و عرفان کے لئے مجھے عطا کی گئی ہے۔اس معرفت کی آپ کو اور آپ کی ذریت کو نہایت ضرورت ہے۔سوئیں اس لئے مستعد کھڑا ہوں کہ آپ لوگ اپنے اموال طیبہ سے اپنے دینی مہمات کے لئے مدد دیں اور ہر یک شخص جہاں تک خدا تعالیٰ نے اس کو وسعت و طاقت و مقدرت دی ہے اس راہ میں دریغ نہ کرے اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اموال کو مقدم نہ سمجھے۔اور میں پھر جہاں تک میرے امکان میں ہے تالیفات کے ذریعہ سے ان علوم و برکات کو ایشیا اور یورپ کے ملکوں میں پھیلاؤں جو خدا تعالیٰ کی پاک روح نے مجھے دی ہیں۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 516) آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ پیغام گاؤں گاؤں، قریہ قریہ، اس ملک میں بھی اور پاکستان میں بھی اس کے پھیلانے کا کام وقف جدید کے سپرد ہے۔پس ہر احمدی کو اپنے نفس کو پاک کرنے کے لئے مالی قربانی کا فعال حصہ بننا چاہئے۔چاہے نئے آنے والے ہیں یا پرانے احمدی ہیں۔اگر مالی قربانیوں کی روح پیدا نہیں ہوتی تو ایمان کی جو مضبوطی ہے وہ پیدا نہیں ہوتی۔کوئی یہ نہ دیکھے کہ معمولی توفیق ہے، غریب آدمی ہوں اس رقم سے کیا فائدہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کے جذبے اور kh5-030425