خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 163
خطبات مسرور جلد چهارم 163 خطبہ جمعہ 24 / مارچ 2006 ء چکی ہے، پیش نہ کئے جانے کی سفارش آتی ہے۔ٹھیک ہے شوریٰ میں پیش تو نہ ہو لیکن اپنے جائزے اور محاسبہ کے لئے کچھ وقت ان تجاویز کی جگالی کے لئے ضروری ہے۔یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا وجہ ہے کہ عملدرآمد نہیں ہوا۔اگر تو 70-80 فیصد جماعتوں میں عمل ہو رہا ہے اور 30-20 فیصد جماعتوں میں نہیں ہو رہا تو پھر تو جائزے کی ضرورت نہیں ہے۔لیکن اگر 70-80 فیصد جماعتوں میں گزشتہ فیصلوں پر عمل نہیں ہورہا ہے تو لمحہ فکریہ ہے۔اس طرح تو اعلیٰ مقاصد حاصل نہیں کئے جاتے۔تو میں سمجھتا ہوں کہ شوری میں اس کے لئے بھی مخصوص وقت ہونا چاہئے تا کہ دیکھا جائے اپنا جائزہ لیا جائے۔یہ ٹھیک ہے کہ کج بحثی نا پسندیدہ فعل ہے لیکن بحث سے بچنے کے لئے ، اپنے جائزے لینے کے لئے ، آنکھیں بند کر لینا بھی اس سے زیادہ نا پسندیدہ فعل ہے۔اس جائزہ میں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ جن جماعتوں نے خاص کوشش کی ہے زیادہ اچھا کام کیا ہے ان کا طریقہ کار کیا تھا۔انہوں نے کس طرح اس پر عملدرآمد کروایا۔اس طرح پھر جب ڈسکشن (Discussion) ہوگی تو پھر دوسری جماعتوں کو بھی اپنی کارکردگی بہتر کرنے کا موقع مل جائے گا۔لیکن اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہئے اس کا رروائی یا بحث میں بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کی ذات پر تبصرے شروع ہو جاتے ہیں۔کسی کی ذات پر تبصرہ نہیں کرنا بلکہ صرف شعبے کا جائزہ ہو۔اس فیصلے پر جس پر پوری طرح عمل نہیں ہو رہا، اس کا جائزہ لیا جائے کہ کہاں کمیاں ہیں اور کیوں کمیاں ہیں۔بہر حال ہمیں کوئی ایسا طریق وضع کرنا ہوگا جس سے قدم آگے بڑھنے والے ہوں۔یہ نہیں ہے کہ ایک فیصلہ کیا اور تین سال اس پر عمل نہ کیا یا اتنا کم عمل کیا کہ نہ ہونے کے برابر ہو، اکثر جماعتوں نے ستی دکھائی اور پھر تین سال کے بعد وہی معاملہ دوبارہ اس میں پیش کر دیا کہ شوریٰ اس کے لئے لائحہ عمل تجویز کرے۔تو یہ تو ایک قدم آگے بڑھانے اور تین قدم پیچھے چلنے والی بات ہوگی۔پھر شوری کے نمائندگان اور عہدیداران کو چاہے وہ مقامی جماعتوں کے ہوں یا مرکزی انجمنوں کے ہوں ایک بات یہ بھی یاد رکھنی چاہئے کہ جماعت کی نظر میں آپ جماعت کا ایک بہترین حصہ ہیں جن کے سپر د جماعت کی خدمت کا کام کیا گیا ہے۔اور آپ لوگوں سے یہ امید اور توقع کی جاتی ہے کہ آپ کا معیار ہر لحاظ سے بہت اونچا ہوگا اور ہونا چاہئے۔چاہے وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں ہو، عبادت کرنے کی طرف توجہ دینے کے بارے میں ہو، یا بندوں کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں ہو یا خلیفہ وقت سے تعلق اور اطاعت کے بارے میں ہو۔اس لئے نمائندگان اور عہدیداران کو اس لحاظ سے بھی اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ وہ کس حد تک اپنی عبادتوں کے قیام کی کوشش کر رہے ہیں۔جیسا کہ میں بتا آیا ہوں کہ عبادت ایک بنیادی چیز ہے جس کو نمائندگی دیتے ہوئے مدنظر رکھنا چاہئے اور ایک عام مسلمان کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ عبادت گزار ہو۔kh5-030425