خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 137
خطبات مسرور جلد چهارم 137 خطبہ جمعہ 10 / مارچ 2006ء ایک دوسری روایت میں ہے کہ مارنے کی کوشش کی یا مارا۔اس پر انہوں نے کہا کہ کوئی دانہ نہیں آئے گا۔اور یہ اس وقت تک نہیں آئے گا جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اجازت نہ آ جائے۔چنانچہ اس نے جا کے اپنی قوم کو کہا اور وہاں سے غلہ آنا بند ہو گیا۔کافی بری حالت ہوگئی۔پھر ابو سفیان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں درخواست لے کر پہنچے کہ اس طرح بھو کے مر رہے ہیں اپنی قوم پر کچھ رحم کریں۔تو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ غلہ اس وقت ملے گا جب تم مسلمان ہو جاؤ بلکہ فوراً ثمامہ کو پیغام بھجوایا کہ یہ پابندی ختم کرو، یہ ظلم ہے۔بچوں، بڑوں ، مریضوں ، بوڑھوں کو خوراک کی ضرورت ہوتی ہے ان کو مہیا ہونی چاہئے۔تو دوسرے یہ دیکھیں کہ قیدی تمامہ سے یہ نہیں کہا کہ اب تم ہمارے قابو میں ہو تو مسلمان ہو جاؤ۔تین دن تک ان کے ساتھ حسن سلوک ہوتا رہا اور پھر حسن سلوک کے بھی اعلیٰ معیار قائم ہوئے۔آزاد کر دیا اور پھر دیکھیں ثمامہ بھی بصیرت رکھتے تھے اس آزادی کو حاصل کرتے ہی انہوں نے اپنے آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں جکڑے جانے کیلئے پیش کر دیا کہ اسی غلامی میں میری دین و دنیا کی بھلائی ہے۔پھر ایک یہودی غلام کو مجبور نہیں کیا کہ تم غلام ہو میرے قابو میں ہو اس لئے جو میں کہتا ہوں کرو، یہاں تک کہ اس کی ایسی بیماری کی حالت ہوئی جب دیکھا کہ اس کی حالت خطرے میں ہے تو اس کے انجام بخیر کی فکر ہوئی۔یہ فکر تھی کہ وہ اس حالت میں دنیا سے نہ جائے جبکہ خدا کی آخری شریعت کی تصدیق نہ کر رہا ہو بلکہ ایسی حالت میں جائے جب تصدیق کر رہا ہو۔تا کہ اللہ تعالیٰ کی بخشش کے سامان ہوں۔تب عیادت کے لئے گئے اور اسے بڑے پیار سے کہا کہ اسلام قبول کر لے۔چنانچہ حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خادم یہودی تھا جو بیمار ہو گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کیلئے تشریف لے گئے اور فرمایا تو اسلام قبول کر لے۔( بخاری کتاب المرضى باب عيادة المشرك حديث (5657 ایک اور روایت میں ہے اس نے اپنے بڑوں کی طرف دیکھا لیکن بہر حال اس نے اجازت ملنے پر یا خود ہی خیال آنے پر اسلام قبول کر لیا۔(بخاری کتاب الجنائز باب اذا اسلم الصبى فمات۔۔۔حدیث نمبر (1356) تو یہ جو اسلام اس نے قبول کیا یہ یقیناً اس پیار کے سلوک اور آزادی کا اثر تھا جو اس لڑکے پر آپ کی غلامی کی وجہ سے تھا کہ یقیناً یہ سچا مذہب ہے اس لئے اس کو قبول کرنے میں بچت ہے۔کیونکہ ہو نہیں سکتا کہ یہ سراپا شفقت ورحمت میری برائی کا سوچے۔آپ یقینا برحق ہیں اور ہمیشہ دوسرے کو بہترین بات ہی کی طرف بلاتے ہیں، بہترین کام کی طرف ہی بلاتے ہیں، اسی کی تلقین کرتے ہیں۔پس یہ آزادی ہے جو kh5-030425