خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 136
خطبات مسرور جلد چهارم 136 خطبہ جمعہ 10 / مارچ 2006ء تو بنو حنیفہ کے ایک شخص کو قیدی بنا کر لائے جس کا نام ثمامہ بن اثال تھا۔صحابہ نے اسے مسجد نبوی کے ستون کے ساتھ باندھ دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اے تمامہ تیرے پاس کیا عذر ہے یا تیرا کیا خیال ہے کہ تجھ سے کیا معاملہ ہو گا۔اس نے کہا میر اظن اچھا ہے۔اگر آپ مجھے قتل کر دیں تو آپ ایک خون بہانے والے شخص کو قتل کریں گے اور اگر آپ انعام کریں تو آپ ایک ایسے شخص پر انعام کریں گے جو کہ احسان کی قدردانی کرنے والا ہے۔اور اگر آپ مال چاہتے ہیں تو جتنا چاہے لے لیں۔اس کے لئے اتنا مال اس کی قوم کی طرف سے دیا جا سکتا تھا۔یہاں تک کہ اگلا دن چڑھ آیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر تشریف لائے اور ثمامہ سے پوچھا کیا ارادہ ہے۔چنانچہ ثمامہ نے عرض کی کہ میں تو کل ہی آپ سے عرض کر چکا تھا کہ اگر آپ انعام کریں تو آپ ایک ایسے شخص پر انعام کریں گے جو کہ احسان کی قدردانی کرنے والا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو وہیں چھوڑا۔پھر تیسرا دن چڑھا پھر آپ اس کے پاس گئے آپ نے فرمایا اے ثمامہ تیرا کیا ارادہ ہے؟ اس نے عرض کی جو کچھ میں نے کہنا تھا وہ کہہ چکا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے آزاد کر دو۔تو ثمامہ کو آزاد کر دیا گیا۔اس پر وہ مسجد کے قریب کھجوروں کے باغ میں گیا اور غسل کیا اور مسجد میں داخل ہو کر کلمہ شہادت پڑھا۔اور کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم بخدا مجھے دنیا میں سب سے زیادہ نا پسند آپ کا چہرہ ہوا کرتا تھا اور اب یہ حالت ہے کہ مجھے سب سے زیادہ محبوب آپ کا چہرہ ہے۔بخدا مجھے دنیا میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ آپ کا دین ہوا کرتا تھا۔لیکن اب یہ حالت ہے کہ میرا محبوب ترین دین آپ کا لایا ہوا دین ہے۔بخدا میں سب سے زیادہ نا پسند آپ کے شہر کو کرتا تھا۔اب یہی شہر میرا محبوب ترین شہر ہے۔آپ کے گھوڑ سواروں نے مجھے پکڑ لیا جبکہ میں عمرہ کرنا چاہتا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جا تو میں عمرہ کرنے کے لئے رہا تھا اب آپ کا کیا ارشاد ہے۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے خوشخبری دی، مبارکباد دی اسلام قبول کرنے کی اور اسے حکم دیا کہ عمرہ کرو، اللہ قبول فرمائے گا۔جب وہ مکہ پہنچا تو کسی نے کہا کہ کیا تو صابی ہو گیا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آیا ہوں اور خدا کی قسم اب آئندہ سے یمامہ کی طرف سے گندم کا ایک دانہ بھی تمہارے پاس نہیں آئے گا۔( بخاری کتاب المغازى باب وقد بنى حنيفه - وحدیث ثمامہ بن اثال (4372 kh5-030425