خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 550 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 550

خطبات مسرور جلد چہارم 550 خطبہ جمعہ 03 نومبر 2006 ء قرب پاؤ گے۔یہ مالی اور جان کی قربانیاں تمہاری فلاح کا ذریعہ بنیں گی۔پیشگی کی زندگی تمہیں ان قربانیوں سے ہی حاصل ہو گی۔پس آج اللہ تعالیٰ کے حکموں کا یہ ادراک اللہ تعالیٰ کے فضل سے اگر حاصل ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کو حاصل ہے۔آج دین کی خاطر اگر وقت کی قربانی کوئی دے رہا ہے تو وہ احمدی ہے۔آج دین کی خاطر اگر اولاد کی قربانی کوئی دے رہا ہے تو وہ احمدی ہے۔آج دین کی خاطر اگر مال کی قربانی کوئی دے رہا ہے تو وہ احمدی ہے۔آج دین کی خاطر اُس روح کو سمجھتے ہوئے اور اُس تعلیم پر عمل کرتے ہوئے جس کی طرف ہمیں زمانے کے امام نے توجہ دلائی ہے اور اس راستے پر ڈالا ہے اور دین پر مضبوطی سے قائم کیا ہے، کوئی جان کی قربانی دے رہا ہے تو وہ احمدی ہے۔پس یہ ہماری کتنی خوش قسمتی ہے کہ آج اللہ تعالیٰ نے ہمیں آخرین کے گروہ میں شامل کر کے ان پہلوں سے ملایا ہے جو دین کی خاطر عظیم قربانیاں دیتے چلے گئے۔ہمارا بھی فرض بنتا ہے کہ ہم اپنی حالتوں پر ہر وقت نظر رکھتے ہوئے ان پہلوں کی قربانی کو ہر وقت سامنے رکھیں جنہوں نے اپنا سب کچھ اللہ تعالیٰ کی خاطر قربان کر دیا۔تبھی ہم اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق ان فضلوں کے وارث ٹھہریں گے، اس کا قرب پائیں گے، اپنی دنیا و آخرت سنواریں گے اور آگے اپنے بچوں کی ہدایت کے سامان پیدا کریں گے۔پس آج ہم سب جو یہ قربانیاں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کریں یا حاصل کر سکیں تو اب ہمیں اپنی ہر قربانی کو خدا تعالیٰ کے حکموں کے تابع کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔اگر ہم نے اس بات کو نہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے تو ہمارا یہ دعویٰ بالکل کھوکھلا دعوی ہے کہ آج ہم ہر قسم کی قربانیوں کا فہم وادراک رکھتے ہیں یا یہ کہ صرف احمدی کو یہ فہم حاصل ہے اور احمدی کی قربانی کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔دنیا میں دوسرے مسلمان بھی قربانیاں کرتے ہیں یا یہ کہنا چاہئے کہ دوسروں کے لئے اپنا مال خرچ کرتے ہیں، غریبوں کی مدد کرتے ہیں۔لوگوں کی ہمدردی اور ان کی مدد کے لئے انہوں نے ادارے بھی کھولے ہوئے ہیں۔عیسائیوں نے ، یہودیوں نے اور دوسرے مذہب والوں نے بڑی بڑی تنظیمیں بنائی ہوئی ہیں جہاں وہ غریبوں کی مدد کرتے ہیں اور بہت کرتے ہیں۔لیکن اس سب خدمت اور ہمدردی کے پیچھے وہ جذ بہ نہیں ہے کہ خدا کی رضا حاصل کرنی ہے۔اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اس لئے یہ سب خدمت کرنی ہے۔عارضی طور پر متاثر ہو کر کسی چیریٹی میں مدد تو کر دیں گے۔لیکن یہ جذ بہ نہیں کہ اللہ کا حکم ہے اس لئے مدد کرنی ہے یا اللہ کے نام کو دنیا میں پھیلانے کے لئے خرچ کرنا ہے۔اللہ کی مخلوق کی خدمت اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کرنی ہے۔بعض لوگ دولت بھی ایسے ذرائع سے کماتے ہیں جو کسی لحاظ سے بھی جائز نہیں ہے۔ان کے دولت کمانے کے ذریعے ناجائز ذریعے ہوتے ہیں لیکن اپنی کمپنیوں کے بجٹ میں kh5-030425