خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 473 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 473

خطبات مسرور جلد چہارم 473 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 2006 اور مسلمان نہ ہو تو اُس کو اُس کی امن کی جگہ پہنچا دینا چاہئے بلکہ یہ حکم دیتا کہ جب ایسا کا فرقا بو میں آجاوے تو وہیں اُس کو مسلمان کر لو۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 232-233) اگلا سوال جو انہوں نے اٹھایا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اسلام کا خدا ایسا خدا ہے جس کو عقل تسلیم نہیں کرتی۔اسلام کا خدا تو ایسا خدا ہے جو اپنے وجود کو تسلیم کرانے کے لئے انسانوں کو عقل کی طرف بلاتا ہے۔اگر یہ تصور ہرایک میں ہے کہ خدا زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا ہے اور اس کا مالک ہے تو پھر یہ بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ وہ تمام قدرتوں کا مالک ہے۔اسلام کے خدا کے نظریہ پر استہزاء اڑانے کی بجائے عقل اور تدبر کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” اسلام کا خدا وہی سچا خدا ہے جو آئینہ قانون قدرت اور صحیفہ فطرت سے نظر آ رہا ہے۔اسلام نے کوئی نیا خدا پیش نہیں کیا بلکہ وہی خدا پیش کیا ہے جو انسان کا نور قلب اور انسان کا کا شنس اور زمین و آسمان پیش کر رہا ہے۔تبلیغ رسالت جلد ششم صفحه 15) پھر آپ فرماتے ہیں کہ " جاننا چاہئے کہ جس خدا کی طرف ہمیں قرآن شریف نے بلایا ہے اس کی اس نے یہ صفات لکھی ہیں۔هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ۔هُوَا الرَّحْمَنُ الرَّحِيْمُ۔مَلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ۔هُوَ اللهُ الخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاسْمَاءُ الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔مَلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ۔أَجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ۔اَلْحَيُّ الْقَيُّوْمِ۔قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ۔اَللهُ الصَّمَدُ۔لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا اَحَدٌ - یعنی وہ خدا جو واحد لاشریک ہے، جس کے سوا کوئی بھی پرستش اور فرمانبرداری کے لائق نہیں۔یہ اس لئے فرمایا کہ اگر وہ لاشریک نہ ہو تو شاید اس کی طاقت پر دشمن کی طاقت غالب آجائے۔اس صورت میں خدائی معرض خطرہ میں رہے گی۔اور یہ جو فر مایا کہ اس کے سوا کوئی پرستش کے لائق نہیں۔اس سے یہ مطلب ہے کہ وہ ایسا کامل خدا ہے جس کی صفات اور خو بیاں اور کمالات ایسے اعلیٰ اور بلند ہیں کہ اگر موجودات میں سے بوجہ صفات کا ملہ کے ایک خدا انتخاب کرنا چاہیں یا دل میں عمدہ سے عمدہ ، اعلیٰ سے اعلیٰ خدا کی صفات فرض کریں تو وہ سب سے اعلیٰ جس سے بڑھ کر کوئی اعلیٰ نہیں ہو سکتا، وہی خدا ہے جس کی پرستش میں ادنی کو شریک کرنا ظلم ہے۔پس اسلام تو ہر قسم کے شرک سے پاک ہے۔یہ ظلم اور شرک تو عیسائی کر رہے ہیں جو اللہ کے ایک نبی کو خدا بنا کر کھڑا کر دیا ہے۔پھر فرمایا کہ عالم الغیب ہے۔یعنی اپنی ذات کو آپ ہی جانتا ہے۔اس کی ذات پر کوئی احاطہ نہیں