خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 385 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 385

خطبات مسرور جلد چهارم 385 خطبہ جمعہ 04 / اگست 2006 پھیرنے کے لئے کافی ہیوی رولر مشینری تھی تا کہ اچھی طرح بجری دبا کر مضبوط سڑک ہو جائے )۔اس میں ان کی 19 سالہ ایک بیٹی نے بڑا کام کیا اور کئی کئی گھنٹے وہ یہ بھاری مشینری چلاتی رہی۔اللہ تعالیٰ انہیں جزا دے۔بلکہ میں تو اس کو کہہ رہا تھا کہ یہ کام ایسا ہے جو بڑا مشکل اور سخت کام تھا کہ شاید بعض مرد بھی نہ کر سکیں۔غرض کہ یہ سارا خاندان بیوی بچے اور سابق مالک کیتھ ، ان کے بوڑھے والد جن کی شاید 70 سال سے زائد عمر ہے اس طرح ایک جذبے سے اور ہم میں گھل مل کر کام کر رہے تھے جیسے کوئی پرانے احمدی بڑے اخلاص سے بھرے ہوئے کام کرتے ہیں۔تو جہاں تک دوستی نبھانے کا تعلق ہے اور اخلاق کا تعلق ہے، اچھے اخلاق دکھانے کا تعلق ہے اس میں واقعی ان کا عمل متاثر کن تھا۔اللہ تعالیٰ ان کی دین کی آنکھ بھی روشن کرے اور سچائی کو پہچان کر وہ اپنے اخلاص میں بھی بڑھ جائیں۔دینی اخلاص میں بھی بڑھ جائیں۔تو یہ دعا بھی ان لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ یہ بھی شکر گزاری کے جذبات کا ایک عمدہ اور اعلیٰ اظہار ہے۔پھر مسٹر کیتھ نے علاقے کے لوگوں اور کونسل کو ہمارا جلسہ منعقد کرنے کی اجازت اور اس کے لئے راہ ہموار کرنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ایک ایک ہمسائے کے پاس گئے ، ان کو بتایا کہ جومختصر عرصے میں میں نے ان لوگوں کو سمجھا ہے یہ وہ نہیں ہیں جو تم سمجھ رہے ہو۔یہ لوگ تو کچھ اور ہی چیز ہیں۔تو ان لوگوں اور اس فیملی کے ہم بہر حال شکر گزار ہیں ورنہ ان کو کیا پڑی تھی ، زمین بیچ کر ایک طرف بیٹھ جاتے کہ تم جانو اور تمہارا کام جانے ہم نے تمہاری وکالت کرنے اور راہ ہموار کرنے کی کوئی ذمہ داری تو نہیں لی ہوئی ، زمین بیچنی تھی بیچ دی۔تو یہ ان کا بہت بڑا خلق ہے، اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے۔اور اللہ کے فضل سے ایسا پُر امن ماحول رہا کہ پولیس جو ٹریفک کیلئے آئی ہوئی تھی وہ بھی دیکھ کر حیران تھی کہ کس طرح ٹریفک کنٹرول ہو رہا ہے۔بلکہ انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ تمہارے خدام تو اس طرح ٹریفک کنٹرول کر رہے ہیں جس طرح انہوں نے پولیس کی ٹریننگ لی ہوتی ہے۔چند گھنٹے کے بعد وہ ایک طرف ہو کر بیٹھ گئے تھے۔بہر حال ہر جگہ سے انکو اچھا تاثر ملا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ کامیاب ہوا۔پھر ہمارے والٹنظیر ز ( volunteers) شکریہ کے مستحق ہیں، یہ بھی اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ دنیائے احمدیت میں جہاں بھی چلے جائیں یہ کام کرنے والے کارکن میسر آ جاتے ہیں جو لگا تارکی کئی گھنٹے ڈیوٹی دیتے ہیں اور یہی حال یہاں اس جلسہ میں بھی ہم نے دیکھا۔اگر تھکتے بھی ہیں تو اظہار نہیں کرتے۔اکثر کی ڈیوٹیاں ان کے پیشوں اور بعض کی ان کے مزاج سے بھی مختلف ہوتی ہیں۔لیکن مجال ہے جو ماتھے پر بل آئے۔بڑی خوش اسلوبی سے اپنی ڈیوٹی ادا کرتے ہیں۔ان میں بچے بھی ہیں، جوان بھی ہیں، بوڑھے بھی ہیں ، عورتیں بھی ہیں، بچیاں بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے عمومی طور پر مجھے ان کارکنان کے اچھے کام کی تعریف ہی لوگوں نے لکھی ہے، جو شامل بھی ہوئے تھے اور جو کام کرنے والے بھی تھے۔بعض سر پھروں کی وجہ سے اگا دُگا واقعات ہو جاتے ہیں، جہاں اپنے مزاج کی وجہ سے بعض کارکن ماحول کو خراب کر دیتے ہیں اور