خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 345 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 345

خطبات مسرور جلد چهارم 345 (28) خطبہ جمعہ 14 جولائی 2006 اللہ تعالیٰ کی صفت ناصر و نصیر کا ایمان افروز پر معارف تذکرہ فرموده مورخہ 14 جولائی 2006ء(14 /وفا 1385 هش ) مسجد بیت الفتوح لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: گزشتہ دو خطبوں سے اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت کا ذکر چل رہا ہے یہ تائید و نصرت اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کی بھی کرتا ہے اور اُن کے بعد اُن کی قائم کردہ جماعتوں سے بھی یہ سلوک کرتا ہے تا کہ ایسے تائیدی نشان دکھا کر مومنین کے ایمانوں کو مضبوط کرتا رہے۔گزشتہ دو خطبوں میں میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق مرزا غلام احمد قادیانی مسیح الزمان اور مہدی دوران حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی آسمانی تائیدات اور دشمنان احمدیت کے آپ پر کئے گئے حملوں سے محفوظ رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے غیر معمولی نشانات کے چند نمونے پیش کئے تھے۔اللہ تعالیٰ کی یہ مدد اور نصرت اپنے پیاروں کے لئے ان کے اس دنیا سے اپنے مالک حقیقی کے پاس چلے جانے سے ختم نہیں ہو جایا کرتی بلکہ جیسا کہ میں نے کہا ہے ان کی جماعتوں سے بھی اللہ تعالیٰ یہ سلوک رکھتا ہے۔بلکہ جہاں جماعت کے ساتھ بحیثیت جماعت اس نصرت کے نظارے نظر آتے ہیں وہاں انفرادی طور پر بھی اس تعلیم پر عمل کرنے والوں کے ساتھ اس قسم کے سلوک کے نمونے جاری رہتے ہیں۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس روحانی فرزند کی جماعت کے ساتھ جماعتی طور پر بھی اور انفرادی طور پر بھی اللہ تعالیٰ نے ایسے نشانات دکھائے جو افراد جماعت کے از دیا ایمان کا باعث بنے۔جماعتی طور پر تو ہم دیکھتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد مخالفین کو یہ خیال ہو گیا کہ اب یہ جماعت گئی کہ گئی لیکن جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ: