خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 23
خطبات مسرور جلد چهارم 23 خطبہ جمعہ 13 جنوری 2006ء پ نہایت ملنسار اور وفادار اور ہمدر دطبع تھے ، دوسروں کی بھلائی چاہتے تھے۔حضرت کی صحبت اور قرب نے آپ میں ایک خاص رنگ پیدا کر دیا تھا۔آپ دعاؤں کی قوت کو جانتے اور دعائیں کرنے کے عادی اور آداب دعا سے واقف تھے۔آپ کی زندگی ایک مخلص مومن اور خدا رسیدہ انسان کی زندگی تھی۔حق کی اشاعت کے لئے آپ میں جوش اور غیرت تھی۔دینی معاملے میں کبھی کسی سے نہ دیتے تھے۔حق کہنے میں ہمیشہ دلیر تھے۔اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عامل تھے۔غرض بہت سی خوبیوں کے مالک تھے۔اور یہ جو کچھ تھا حضرت اقدس کی پاک صحبت کا اثر تھا۔مرحوم اپنی زندگی کے بے شمار حالات و واقعات سے واقف تھے۔مگر آپ کی عادت میں تھا کہ بہت کم روایت کرتے اور جب حضرت اقدس کے حالات کے متعلق کوئی سوال ہوتا تو چشم پر آب ہو جاتے اور فرماتے کہ سراسر نور کی میں کیا حقیقت بیان کروں ، کوئی ایک بات ہو تو کہوں“۔(اصحاب احمد جلد نمبر 13 صفحہ 72 ) تو صحابہ جو واعظ تھے ان کے اپنے عمل تھے، وہ عملی نمونے قائم کرتے تھے۔یہ نمونے ہیں جو آج ہمارے ہر واقف زندگی کے لئے ، ہر مربی کے لئے ، مبلغ کے لئے معلمین کے لئے مشعل راہ ہیں ان کو سامنے رکھنا چاہئے۔پھر بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کا ذکر ہے۔آپ ہندوؤں سے مسلمان ہوئے تھے۔قادیان آئے مگر آپ کے والد صاحب حضرت مسیح موعود سے واپس بھیجنے کا وعدہ کر کے بھائی جی کو ساتھ لے گئے۔گھر جا کر آپ پہ بہت سختیاں کی گئیں۔اور ادائیگی نماز سے بھی روکا گیا۔چنانچہ آپ خود فرماتے ہیں کہ ایک زمانے میں مجھے فرائض کی ادائیگی تک سے محروم کرنے کی کوششیں کی جاتیں۔اس زمانے میں بعض اوقات کئی کئی نمازیں ملا کر یا اشاروں سے پڑھتا تھا۔ایک روز علی اصبح میں گھر سے باہر قضائے حاجت کے بہانے سے گیا۔گیہوں کہ کھیتوں کے اندر وضو کر کے نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک شخص کدال لئے میرے سر پر کھڑا رہا۔نماز کے اندر تو یہی خیال تھا کہ کوئی دشمن ہے جو جان لینے کے لئے آیا ہے لہذا میں نے نماز کو معمول سے لمبا کر دیا اور آخری نماز سمجھ کر دعاؤں میں لگا رہا۔مگر سلام پھیر نے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ ایک مسلمان مزدور تھا کشمیری قوم کا۔جو مجھے نماز پڑھتے دیکھ کر بہت خوش ہوا۔اور جب میں نماز سے فارغ ہوا تو نہایت محبت اور خوشی کے جوش میں مجھ سے پوچھا منشی جی! کیا یہی بات پکی ہے کہ آپ مسلمان ہیں۔میں نے کہا اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام پر قائم ہوں اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرے لئے kh5-030425