خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 279 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 279

خطبات مسرور جلد چهارم 279 خطبہ جمعہ 09 جون 2006ء اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جماعت کو ہمیشہ بڑے نقصان سے بچالیتا ہے اور یہی ہم نے اب تک اللہ تعالیٰ کا جماعت سے اور خلافت احمدیہ سے سلوک دیکھا ہے اور دیکھتے آئے ہیں۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ يا يُّهَا الَّذِيْنَ امَنُوْا اَطِيْعُوا اللَّهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَأَوْلِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ (النساء:60 ) اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے حکام کی بھی۔اور اگر تم کسی معاملہ میں اولوالامر سے اختلاف کرو تو ایسے معاملے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دیا کرو۔اگر فی الحقیقت تم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لانے والے ہو۔یہ بہت بہتر طریق ہے اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے۔یعنی تمہارا کام اطاعت کرنا ہے اللہ تعالیٰ کے حکموں کی پوری پیروی کرو۔پہلے اپنے آپ کو دیکھو کہ تم اللہ کے حکموں کی پیروی کر رہے ہو؟ اللہ تعالیٰ نے شریعت کے جو احکامات اتارے ہیں، پہلے تو ان کا فہم و ادراک حاصل کرو، کیا وہ تمہیں حاصل ہو گیا ہے۔اور جب مکمل طور پر حاصل ہو گیا ہے تو پھر اُن احکامات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بناؤ اور جب ایک شخص خود اس پر عمل کرنے لگ جائے گا اور اس کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر بھی عمل کر رہا ہوگا تو پھر وہ شاید اپنے خیال میں یہ کہنے کے قابل ہو سکتا ہے کہ ہاں اب میں ایمان لانے والوں میں سے ہوں۔لیکن بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی ، یہ آیت ہمیں کچھ اور بھی کہتی ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم علمی اور عملی لحاظ سے احکام شریعت کے بہت پابند ہیں اور علم رکھنے والے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ جو غیب کا علم بھی رکھتا ہے اور حاضر کا علم بھی رکھتا ہے اور جو آئندہ ہونے والا ہے اس کا علم بھی رکھتا ہے اس کو پتہ تھا کہ اگر صرف اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا کہہ دیا تو کئی نام نہاد علماء اور بزعم خویش سنت رسول پر چلنے والے پیدا ہوں گے اور جو جماعت کی برکت ہے وہ نہیں رہے گی اور ہر ایک نے اپنی ایک ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائی ہوگی اور اپنے محدود علم کو ہی انتہا سمجھیں گے اور آج ہم مسلمانوں میں دیکھتے ہیں تو یہی کچھ نظر آتا ہے۔لیکن یہ جو زعم ہے کہ ہم اللہ اور رسول کے حکم پر عمل کر رہے ہیں ، اس کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہلوا کر ختم کر دیا کہ مسیح موعود کے آنے کے بعد اس کو ماننا ضروری ہے اور پھر اس کے بعد جو خلافت عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّة قائم ہوتی ہے اس کی اطاعت بھی ضروری ہے۔ورنہ یہ دعوی ہے کہ ہم نے اللہ اور رسول کی اطاعت کر لی۔اور پھر اس سے آگے اللہ تعالیٰ نے نظام جماعت میں یکرنگی پیدا کرنے کے لئے اور اس نظام کی حفاظت کے لئے یہ بھی فرما دیا کہ اولوالامر کی بھی اطاعت کرو۔صرف مسیح موعود کو جو مان لیا اس کے بعد جو نظام مسیح موعود کی جماعت میں ، نظام خلافت کے قائم ہونے سے قائم ہوا ہے اس کی بھی اطاعت کرو۔آج ہم پر اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اس نے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کی kh5-030425