خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 260
260 خطبات مسرور جلد چهارم خطبہ جمعہ 26 رمئی 2006 ء بگاڑ کر نہ پکارا کرو، ایمان کے بعد فسوق کا داغ لگ جانا بہت بری بات ہے۔اور جس نے تو بہ نہ کی تو یہی وہ لوگ ہیں جو ظالم ہیں۔پس ہر احمدی کو جس نے اس زمانے کے امام کو مانا ہے اس کو اپنے ایمان کی حفاظت کرنی چاہئے اور اپنے آپ کو اس بُرے نام یعنی فاسق ہونے سے بچانا چاہئے۔فاسق وہ شخص ہے جو نیکی سے ہٹا ہوا ہو اور بدکار ہو۔پس کسی دوسرے پر بدکاری کا یا کوئی اور الزام لگانے یا عیب تلاش کرنے کی بجائے ، اس کے پیچھے پڑ جانے کی بجائے اور اس وجہ سے خود اللہ تعالیٰ کی نظر میں اس بات کا مجرم ٹھہر نے کی بجائے ، ہر ایک کو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیئے اور اس ظلم سے باز آنا چاہئے۔ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کی آنکھ کا تنکا تو انسان کو نظر آتا ہے لیکن اپنی آنکھ میں پڑا ہوا شہتیر وہ بھول جاتا ہے۔(الترغيـب و الـتـرهـيـب بـاب الترهيب من ان يامر بمعروف و ينهي عن المنكرجلد نمبر 3 حدیث نمبر 3455 صفحه 242 دار الحديث قاهره ایڈیشن 1994ء) پس اگر اس سنہری اصول کو ہر ایک یادر کھے اور اپنے ایمان پر نظر رکھے اور ہر بات اور ہر عمل کرنے سے پہلے یہ سوچ لے کہ خدا تعالیٰ مجھے جو ہر وقت دیکھنے والا ہے، غیب کا بھی علم رکھتا ہے اور موجود کا بھی علم رکھنے والا ہے، دل کا بھی حال جاننے والا ہے، تو بجائے دوسروں کے عیب تلاش کرنے کے انسان اپنی عاقبت کی فکر میں انسان لگا رہے گا۔بشرطیکہ جیسا میں نے کہا اللہ کی ذات پر یقین ہو۔اور مجھے امید ہے کہ ایک احمدی کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین ہے اور میں نے دیکھا ہے جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا کہ یاد دہانی کرانے پر کئی لوگوں میں انقلابی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں اور اللہ کرے کہ یہ سب ہوتی رہیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، بدظنی سے بچو، کیونکہ بدظنی سخت قسم کا جھوٹ ہے، ایک دوسرے کے عیب کی ٹوہ میں نہ رہو۔اپنے بھائی کے خلاف تجسس نہ کرو۔اچھی چیز ہتھیانے کی حرص نہ کرو۔حسد نہ کرو، دشمنی نہ رکھو، بے رخی نہ بر تو جس طرح اس نے حکم دیا ہے اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو۔(مسلم کتاب البر والصلة باب تحريم الظن حدیث نمبر (6431 | مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور وہ اس پر ظلم نہیں کرتا۔اسے رسوا نہیں کرتا ، اسے حقیر نہیں جانتا، اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ تقویٰ یہاں ہے، تقویٰ یہاں ہے۔یعنی مقام تقویٰ دل ہے اور سب سے بڑا تقویٰ کا مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دل ہے فرمایا ایک انسان کے لئے یہی برائی کافی ہے کہ وہ مسلمان بھائی کی تحقیر کرے، ہر مسلمان کی تین چیزیں، دوسرے مسلمان پر kh5-030425