خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 246
246 خطبات مسرور جلد چهارم خطبہ جمعہ 19 رمئی 2006 ء لوگ تھے۔جماعت کے افراد سے دوستانہ تعلقات ہیں۔صرف ایک جھجک ہے۔ان کے چہروں سے لگتا ہے کہ اب یہ مانتے ہیں کہ یہ جماعت اصل جماعت احمدیہ ہے، یہی حق پر ہے۔لیکن قبول کرنے میں جھجک ہے۔تو میں نے تو ان میں سے ایک دو کو کہا تھا کہ جھجک توڑیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مکمل دعاوی پر ایمان لائیں۔بظاہر تو انہوں نے غور کرنے کو کہا۔اللہ تعالیٰ ان کو تو فیق بھی دے۔Reception میں اسلام کی امن کی تعلیم کے بارے میں بھی کچھ کہنے کی توفیق ملی۔اسکے بعد پھر کئی ملنے والے ملے اور بہت ساری غلط فہمیاں دور کرنے کا شکریہ ادا کیا۔اس Reception میں وہاں کے اٹارنی جنرل بھی آئے ہوئے تھے انہوں نے مجھے بعد میں کہا کہ میں سمجھتا تھا کہ مجھے اسلام کے بارے میں بہت کچھ پتہ ہے لیکن تم نے بعض بالکل نئی باتیں بتائی ہیں۔ان لوگوں سے کافی باتیں بھی ہوتی رہیں۔کینبر ا وہاں کا لیپیٹل (Capital) ہے کینبرا (Canbra) میں جس میوزیم میں Reception کا انتظام کیا گیا تھا وہ وہاں کا نیشنل میوزیم ہے وہاں مختلف ملکوں کے ایمبیسیڈ رز بھی آئے ہوئے تھے، امریکہ کے بھی شاید ایمبیسیڈ رنمبر دو موجود تھے اور اس طرح دوسرے ملکوں کے سفراء بھی تھے ، آسٹریلیا کے امیگریشن منسٹر بھی تھے اور سینٹ کے ممبر بھی تھے، مختلف چرچوں کے بڑے پادری بھی تھے تو وہاں بھی امن کے بارے میں اسلام کی تعلیم بتانے کا موقع ملا کہ کیا ہے۔اس میں میں نے بتایا، کہ ہر مسلمان کا عمل چاہے وہ اسلام کے نام پر کرے یا ذاتی حیثیت سے کرے اگر اس کا کوئی بھی فعل معاشرے کے امن کو نقصان پہنچانے والا ہے تو تم لوگ فوراً اس کو اسلام کے کھاتے میں ڈال کر اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرنا شروع کر دیتے ہو۔اگر کوئی عیسائی ایسی حرکت کرے یا دوسرے مذاہب والے کریں تو اس کو اس کے مذہب سے منسوب نہیں کیا جاتا کہ یہ اس مذہب کے ماننے والے نے حرکت کی ہے۔بعد میں وہاں پر امیر جماعت آسٹریلیا محمود احمد بنگالی صاحب نے مجھے بتایا کہ ایک سفیر جو ایک اسلامی ملک کے سفیر ہیں اور جہاں احمدیت کی مخالفت بھی آجکل زوروں پر ہے وہ محمود صاحب کو کہنے لگے کہ یہ بات جو انہوں نے کی ہے۔( جو وہاں میں نے Reception میں تقریر کی تھی مختصر سا خطاب کیا تھا۔) بڑی سچی بات ہے لیکن ایسے مجمع میں جہاں بڑے بڑے ملکوں کے نمائندے ہوں تم لوگ ہی یہ کہہ سکتے ہو، ہم میں تو اتنی جرات نہیں ہے۔تو اللہ تعالیٰ ان کو عقل دے اور سمجھ دے اور یہ اس زمانے کے امام کے انکاری ہونے کی بجائے اس کو ماننے والے بن جائیں جس نے اسلام کی خوبیوں کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اور اپنے ماننے والوں کے ایمان میں ترقی کا ذریعہ بنے ہیں۔جب اس غلام صادق کو مان لیں گے تو یہ جراتیں اور تو ہمتیں خود بخود پیدا ہو جائیں گی اور کسی کو جرات نہیں رہے گی کہ اسلام پر اور بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر بیہودہ اور لغو حملے کر سکیں۔تو جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے کہ وہاں پادری بھی آئے ہوئے تھے وہ وہاں کے kh5-030425