خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 238 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 238

238 خطبہ جمعہ 12 مئی 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم پس آپ میں سے ہر ایک کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔یہاں آ کر اللہ تعالیٰ نے جو آپ کے، بہت سوں کے حالات میں بہتری پیدا کی ہے اس کے شکرانے کے طور پر اپنی مالی قربانیوں کے جائزے لیں۔نظام نے جو شرح مقرر کی ہے کیا آپ اس کے مطابق چندے دے رہے ہیں؟ یہ چندہ بھی نفسوں کو پاک کرنے کے ذریعہ بنے گا اور اس حدیث کے مطابق جنت میں لے جانے کا ذریعہ بھی بنے گا جب خالصتا اللہ تعالیٰ کی خاطر قربانی کے جذبے سے دیا جائے گا۔جب خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والی قربانیاں دی جائیں گی۔اگر آمد چھپا کر ادائیگیاں کر رہے ہیں، چندے دے رہے ہیں تو یہ اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دینے کی کوشش ہے۔اور اللہ تعالیٰ کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔وہ انسان کے دل کے نہاں در نہاں انتہائی گہرے گہرے جو خانے ہیں ان کو بھی جانتا ہے۔اگر حالات کی مجبوری کی وجہ سے پوری شرح سے چندہ نہیں دے سکتے تو صاف اور سیدھی بات کریں کہ گو میری آمد تو زیادہ ہے لیکن بعض مجبوریوں کی وجہ سے میں پوری شرح سے چندہ نہیں دے سکتا۔اور اس بارے میں کئی دفعہ میں کہہ چکا ہوں کہ جو کوئی بھی مجھے لکھے گا بغیر تحقیق کے اس کو کم شرح سے چندہ دینے کی اجازت مل جائے گی جس شرح سے بھی وہ چندہ دینا پسند کرتا ہے۔لیکن یہ کہہ کر کہ میری آمد ہی اتنی ہے جس پر میں چندہ دے رہا ہوں جبکہ آمد زیادہ ہو تو ایک گناہ تو کم چندہ دے کر کر رہے ہیں اور اس سے بڑا گناہ جھوٹ بول کر۔اور جھوٹ کو اللہ تعالیٰ نے شرک کے برابر قرار دیا ہے۔پس نمازیں بھی اور دوسری نیکیاں بھی تب ہی فائدہ دیتی ہیں جب وہ خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر اور اس کے تمام حکموں پر چلتے ہوئے کی جائیں اور یہی چیزیں ہیں جو آپ کو دین و دنیا کی نعمتوں کا وارث بنائیں گی۔نسلوں کی حفاظت کریں گی۔آپ کے اندران پاک تبدیلیوں کی وجہ سے آپ کو دعوت الی اللہ کے کام میں مدد دیں گی۔اس کے بہتر نتائج اور ثمرات حاصل ہوں گے۔پس اس ذمہ داری کو بھی اللہ تعالیٰ کا ایک اہم حکم سمجھتے ہوئے ادا کریں اور اپنی عبادتوں کے ساتھ ساتھ اپنی مالی قربانیوں کے بھی معیار بڑھا ئیں۔یہی باتیں ہیں جو آپ میں پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کا باعث بنیں گی اور اس ذریعہ سے آپ کے عملی نمونے قائم ہوں گے۔اور یہ عملی نمونے جیسا کہ میں نے کہا تبلیغی میدان کھولیں گے۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو یہ معیار حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔یہ حدیث جو میں نے پڑھی تھی اس میں ایک نصیحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمائی کہ صلہ رحمی کرو یعنی اپنے قریبیوں سے، رحمی رشتہ داروں سے نیک اور اچھا سلوک کرو۔ان رھی رشتہ داروں میں میاں بیوی کے ایک دوسرے کے رحمی رشتہ دار بھی شامل ہیں ان کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔ان سے بھی نیک سلوک کرنا چاہئے۔پس اس لحاظ سے بھی ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھیں۔خاص طور پر جن لوگوں نے یہاں شادیاں کی ہوئی ہیں وہ اس بات کو خاص اہمیت دیں۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنے سے، اپنے عملی نمونے قائم کرنے سے تبلیغ کے میدان بھی وسیع ہوں kh5-030425