خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 13 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 13

خطبات مسرور جلد چهارم 13 خطبہ جمعہ 06/جنوری 2006ء پیتے احمدی ہیں ان کے لئے بھی سوچ کا مقام ہے، ان کو بھی سوچنا چاہئے کہ وہ دیکھیں کہ کیا وہ جو مالی قربانی کر رہے ہیں کبھی انہیں یہ احساس ہوا کہ واقعی یہ قربانی ہے۔غریب آدمی تو بیچارہ اپنا پیٹ کاٹ کر چندہ دیتا ہے لیکن امراء اس نسبت سے دیتے ہیں کہ نہیں۔اور اگر چندہ دینے کے بعد بھی کبھی احساس نہیں پیدا ہوا کہ کسی قسم کی قربانی کی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ان میں بہت گنجائش موجود ہے۔جیسے میں نے بتایا کہ وقف جدید کی تحریک حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شروع فرمائی تھی اس کی اہمیت بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ: میں احباب جماعت کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ اس تحریک کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کی طرف پوری توجہ دیں اور اس کو کا میاب بنانے میں پورا زور لگائیں اور کوشش کریں کہ کوئی فرد جماعت ایسا نہ رہے جو صاحب استطاعت ہوتے ہوئے اس چندے میں حصہ نہ لئے۔پس گزشتہ چند سالوں میں بھارت اور پاکستان میں، گو تھوڑی تعداد میں نئے آئے ہیں مگر افریقہ میں بڑی بھاری تعداد جماعت میں شامل ہوئی ہے۔اگر آپ ان لوگوں کو جماعت کا فعال حصہ بنانا چاہتے ہیں اور وہ لوگ خود اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا چاہتے ہیں اور جماعت کا فعال حصہ بننا چاہتے ہیں تو پھر کوشش کر کے مالی قربانیوں میں حصہ ڈالیں اور اس کے لئے ابتداء میں وقف جدید میں ہی چاہے حصہ لیں۔پھر آہستہ آہستہ دو تین سال میں جب عادت پڑ جائے گی تو باقی مالی نظام میں بھی شامل ہو جائیں گے اور یہ اس لئے ضروری ہے تا کہ ایمان میں بھی مضبوطی پیدا ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا بھی حاصل ہو۔پھر حضرت مصلح موعودؓ کے ذہن میں جو منصوبہ تھا کہ اس تحریک سے کیا کیا کام لینے ہیں، کس طرح پھیلانا ہے، ایک موقع پر آپ نے اس کا ذکر فرمایا اور وہی پروگرام اب بھارت کو دیا گیا ہے۔وقف جدید کے تحت اس وقت تقریباً پونے بارہ سو معلمین اور مبلغین کام کر رہے ہیں۔لیکن ابھی بھی میرے نزدیک کافی نہیں ہے۔آپ نے فرمایا کہ: پس میں جماعت کے دوستوں کو ایک بار پھر اس وقف کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ہماری جماعت کو یا د رکھنا چاہئے کہ اگر وہ ترقی کرنا چاہتی ہے تو اس کو اسی قسم کے وقف جاری کرنے پڑیں گے اور چاروں طرف رشد و اصلاح کا جال پھیلانا پڑے گا۔اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ ایک مربی ایک ضلع میں مقرر ہو گیا اور وہ دورہ کرتا ہوا ہر جگہ گھنٹہ گھنٹہ دو دو گھنٹے ٹھہرتا ہوا سارے ضلع میں پھر گیا۔اب ایسا زمانہ آ گیا ہے کہ ہمارے مربی کو ہر گھر ہر جھونپڑی تک پہنچنا پڑے گا اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب میری اس نئی سکیم پر عمل کیا جائے۔(الفضل 11 جنوری 1958ء) kh5-030425