خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 5
خطبات مسرور جلد چهارم 5 خطبہ جمعہ 06/جنوری 2006ء - کرنے کی کڑیاں ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے راستے میں خرچ کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ وَ مَا لَكُمْ أَلَّا تُنْفِقُوا فِي سَبِیلِ اللهِ ﴾ (الحدید : 11) اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔پس اپنی زندگیوں کو سنوارنے کے لئے مالی قربانیوں میں حصہ لینا انتہائی ضروری ہے بلکہ یہ بھی تنبیہ ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے والے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں۔جیسے کہ فرماتا ہے۔وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾ (البقرة - 196)۔اور اللہ کے راستے میں مال خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔پس جیسا کہ میں نے کہا یہ مالی تحریکات جو جماعت میں ہوتی ہیں ، یا لازمی چندوں کی طرف جو توجہ دلائی جاتی ہے یہ سب خدا تعالیٰ کے حکموں کے مطابق ہیں۔پس ہر احمدی کو اگر وہ اپنے آپ کو حقیقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی جماعت کی طرف منسوب کرتا ہے اور کرنا چاہتا ہے، اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے مالی قربانیوں کی طرف توجہ دینی چاہئے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے مخلصین کی ایک بہت بڑی جماعت اس قربانی میں حصہ لیتی ہے لیکن ابھی بھی ہر جگہ بہت زیادہ گنجائش موجود ہے۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے یہی حکم فرمایا ہے کہ اگر آخرت کے عذاب سے بچنا ہے اور اللہ تعالیٰ کی جنتوں کے وارث بننا ہے تو مال و جان کی قربانی کرو۔اس زمانے میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آکر تلوار کا جہاد ختم کر دیا تو یہ مالی قربانیوں کا جہاد ہی ہے جس کو کرنے سے تم اپنے نفس کا بھی اور اپنی جانوں کا بھی جہاد کر رہے ہوتے ہو۔یہ زمانہ جو مادیت سے پر زمانہ ہے ہر قدم پر روپے پیسے کا لالچ کھڑا ہے۔ہر کوئی اس فکر میں ہے کس طرح روپیہ پیسہ کمائے چاہے غلط طریقے بھی استعمال کرنے پڑیں کئے جائیں۔پھر کمپنیاں ہیں اور مختلف قسم کے تجارتی ادارے ہیں۔باتوں سے اشتہاروں سے ایسی دلچسپی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح مال بکے اور زیادہ سے زیادہ منافع کما لیا جائے۔ان اشتہاروں وغیرہ پر بھی لاکھوں خرچ ہوتے ہیں۔بچوں تک کو مختلف چیزوں کی طرف راغب کرنے کے لئے، توجہ پیدا کرنے کے لئے ایسے اشتہار دیئے جاتے ہیں۔ٹی وی وغیرہ پر ایسے اشتہار آتے ہیں، کوشش کی جاتی ہے کہ ماں باپ کو جن کو توفیق ہو بچے مجبور کریں کہ ان کو وہ چیز لے کر دی جائے ، اور جن میں توفیق نہیں ان میں پھر بے چینی پیدا ہوتی ہے۔اس بے چینی کی وجہ یہی ہے کہ ہر ایک مادیت کی طرف جھک رہا ہے۔اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے کی طرف توجہ کم ہے اور امیر ملکوں میں ، مغربی ممالک میں یہ بہت زیادہ ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تجارتیں، یہ خرید و فروخت تمہیں کوئی فائدہ نہیں دیں گے۔دنیا و آخرت سنوار نے kh5-030425