خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 76 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 76

خطبات مسرور جلد سوم 76 خطبہ جمعہ 11 فروری 2005ء اللہ علیہ وسلم سے جو اس کتاب میں لکھی جائیں گی، قطع نظر کر کے محض ان کے حالات پر ہی غور کرے تو بلا شبہ انھیں حالات پر غور کرنے سے ان کے نبی صادق ہونے پر دل سے یقین کرے گا اور کیوں کر یقین نہ کرے وہ واقعات ہی ایسے کمال سچائی اور صفائی سے معطر ہیں کہ حق کے طالبوں کے دل بلا اختیار ان کی طرف کھینچے جاتے ہیں“۔(براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد اول صفحه 107-108) یہ آپ نے براہین احمدیہ میں فرمایا تھا۔تو بہر حال آگے میں باقی باتیں تو نہیں بیان کر رہا۔اب احادیث سے کچھ واقعات بیان کروں گا جن سے آپ کی سچائی پر معاشرے کے ہر طبقے نے مہر ثبت کی ہے، گواہی دی ہے۔جس میں گھر والے بھی ہیں، کاروباری شریک بھی ہیں، دوست بھی ہیں اور دشمن بھی ہیں کہ یہ وہ سچا انسان تھا جسے ہم بلا مبالغہ صدوق کہتے تھے اور کہتے ہیں۔ابتدائے جوانی میں ہی قریش مکہ کی ایک گواہی ہے جو انہوں نے آپ کے صادق اور امین ہونے پر دی۔ایک واقعہ ہے کہ جب تعمیر کعبہ کے وقت حجر اسود کی تنصیب کے لئے قبائل کا با هم اختلاف ہوا اور نوبت جنگ و جدال تک پہنچے لگی تو چار پانچ دن تک کوئی حل نظر نہیں آرہا تھا۔پھر ان میں سے ایک عقلمند شخص نے مشورہ دیا، جن کا نام ابو امیہ بن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم تھا۔یہ سب سے بوڑھے شخص اور تجربہ کار تھے۔عموماً بوڑھے ذرا ہوش سے کام لیتے ہیں۔انہوں نے مشورہ دیا کہ اختلاف کرنے کی ضرورت نہیں ہے یہ فیصلہ کر لو کہ جوشخص کل سب سے پہلے بیت اللہ میں آئے گا وہ فیصلہ کر دے۔اس بات پر سارے راضی ہو جاؤ۔چنانچہ سب نے یہ تجویز مان لی اور اگلے روز انہوں نے دیکھا کہ سب سے پہلے بیت اللہ میں داخل ہونے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔چنانچہ جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہا هذ الامين سي تو امین ہے۔ہم خوش ہو گئے یہ محمد ہیں۔چنانچہ جب وہ ان کے پاس پہنچے اور قریش نے حجر اسود کے وضع کرنے کا جھگڑا بتایا۔جب حجر اسود لگانا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس ایک کپڑا لاؤ۔چنانچہ آپ کو کپڑا پیش کیا گیا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا