خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 63
خطبات مسرور جلد سوم 63 خطبہ جمعہ 4 فروری 2005ء ایک روز میں موجود تھا کہ قریش کے سب بڑے بڑے لوگ حجر اسود کے پاس خانہ کعبہ میں اکٹھے ہوئے۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرنے لگے اور کہتے تھے کہ جیسا ہم نے اس شخص پر صبر کیا ہے ایسا کسی پر نہیں کیا۔یہ ہمارے دین اور بزرگوں کو بُرا کہتا ہے۔ہم نے اس پر بڑا صبر کیا ہے۔یہ لوگ ایسی ہی باتیں کر رہے تھے کہ اتنے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آ۔طواف میں مشغول ہوئے اور جب آپ طواف کرتے ہوئے ان کے پاس سے گزرتے تو کفار آپ پر آوازیں کستے۔چنانچہ تین بار ایسا ہوا اور اس کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے دکھ اور ملال ظاہر ہو رہا تھا۔تیسری مرتبہ آوازہ کہنے پر آپ کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے : اے گروہ قریش ! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، میں تم جیسوں کی ہلاکت کی خبر لے کر آیا ہوں۔حضرت عبد اللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کلام کا ایسا اثر ہوا کہ قریش سکتہ کی حالت میں ہو گئے اور جو شخص ان میں زیادہ بڑھ بڑھ کر باتیں کر رہا تھا۔وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نرمی سے باتیں کرنے لگا اور کہنے لگا کہ آپ تشریف لے جائیں۔چنانچہ آپ تشریف لے گئے۔پھر دوسرے روز یہ لوگ اکٹھے ہوئے اور ہر طرف سے آپ پر یہ کہتے ہوئے حملہ کر دیا کہ تم ہی ہمارے بتوں میں عیب نکالتے ہو اور ہمارے دین کو برا کہتے ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں میں یہی کہتا ہوں۔عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے حضور کی چادر مبارک پکڑ لی۔ابو بکر یہ دیکھ کر روتے ہوئے کھڑے ہوئے اور قریش سے کہنے لگے کیا تم ایسے شخص کو قتل کرتے ہو جو یہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے۔تب قریش آپ کو چھوڑ کر چلے گئے۔راوی بیان کرتے ہیں آپ کے ساتھ قریش کی بدسلوکی کا یہ وہ واقعہ ہے جومیں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔(السيرة النبوية لابن هشام ذكر ما لقى رسول الله من قومه | اس طرح کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا بڑے بڑے خطرناک واقعات ہیں۔بڑے بڑے خوفناک منصوبے آپ کو اور آپ کے ماننے والوں کو ختم کرنے کے لیکن اللہ تعالیٰ نے جس نے آدم کی پیدائش کے ساتھ ہی آپ کی پیدائش کا فیصلہ کر لیا تھا، جس نے اپنے اس پیارے محبوب کے ذریعے اپنا پیغام دنیا تک پہنچانا تھا، جس نے اپنے