خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 682 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 682

خطبات مسرور جلد سوم 682 خطبہ جمعہ 18 /نومبر 2005ء ہونے چاہئیں۔اور کوئی دھو کہ اور کسی قسم کی بھی بد نیتی شامل نہیں ہونی چاہئے۔فرماتے ہیں: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نفس امارہ کی حالت بیان کرتے ہوئے اس حالت کی اصلاح کے لئے عدل کا حکم ہے۔اس میں نفس کی مخالفت کرنی پڑتی ہے۔مثلاً کسی کا قرضہ ادا کرنا ہے لیکن نفس اس میں یہی خواہش کرتا ہے کہ کسی طرح سے اس کو دبا ہو لوں اور اتفاق سے اس کی میعاد بھی گزر جاوے۔اس صورت میں نفس اور بھی دلیر اور بے باک ہے گا کہ اب تو قانونی طور پر بھی کوئی مواخذہ نہیں ہو سکتا۔مگر یہ ٹھیک نہیں۔عدل کا تقاضا یہی ہے کہ اس کا دین واجب ادا کیا جاوے (اس کا قرض واجب ادا کرو) اور کسی حیلے اور عذر سے اس کو دبایا نہ جاوے۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض لوگ ان امور کی پروا نہیں کرتے اور ہماری جماعت میں بھی ایسے لوگ ہیں جو بہت کم توجہ کرتے ہیں اپنے قرضوں کے ادا کرنے میں۔یہ عدل کے خلاف ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو ایسے لوگوں کی نماز نہ پڑھتے تھے ( یعنی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے ) پس تم میں سے ہر ایک اس بات کو خوب یادر کھے کہ قرضوں کے ادا کرنے میں سستی نہیں کرنی چاہئے اور ہر قسم کی خیانت اور بے ایمانی سے دور بھاگنا چاہئے۔کیونکہ یہ امر الہی کے (ملفوظات جلد 4 صفحه 607 جدید ایڈیشن) خلاف ہے۔پس ہمارے سامنے یہ تعلیم ہے۔ہم جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم دنیا کے سامنے اسلام کی صحیح تعلیم کے نمونے قائم کرتے ہیں۔اگر ہمارے عمل اس کے خلاف ہوں تو ہمیں سوچنا چاہئے کہ نہ تو ہم امانت کا حق ادا کر رہے ہیں، نہ ہی ہم اپنے عہد پورے کر رہے ہیں بلکہ کاروبار میں دوسروں کو دھوکہ دے کر قرضوں میں ٹال مٹول سے کام لے کر گناہگار بن رہے ہیں اور اُس زمرے میں آ رہے ہیں جو فساد پیدا کرنے والے ہیں۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ بعض لوگ ان امور کی پرواہ نہیں کرتے اور ہماری جماعت میں سے بھی ایسے لوگ ہیں جو بہت کم توجہ کرتے ہیں۔تو میں بھی آج بڑے افسوس سے یہی بات کہنا چاہتا