خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 60 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 60

خطبات مسرور جلد سوم 60 خطبہ جمعہ 4 فروری 2005ء آپ نے کھانے سے انکار کر دیا تھا اور یہ فرمایا کہ میں اس میں سے کھانے والا نہیں جو تم بتوں کے نام پر کرتے ہو۔تو یہ تھا وہ دل جس میں سوائے اللہ تعالیٰ کی محبت کے اور کوئی دوسری محبت نہیں تھی۔پھر زمانہ نبوت شروع ہوا تو ایک دنیا نے دَنی فَتَدَلَّی کا نظارہ دیکھا، بشرطیکہ آنکھ دیکھنے کی ہو۔ہر دن جوطلوع ہوتا تھا، چڑھتا تھا وہ دو محبت کرنے والوں یعنی خدا تعالیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تر ہونے کے نشان دکھاتا تھا۔چنانچہ آپ کے چچانے جب کفار کے خوف سے آپ کو اللہ تعالیٰ کے پیغام کے اظہار سے روکنے کی کوشش کی تو اس عاشق صادق نے کیا خوبصورت جواب دیا، اس کا ذکر یوں ملتا ہے۔ابن اسحاق کہتے ہیں : ” اور ان کے علاوہ اور بھی بہت لوگ وہاں تھے، یہ سب لوگ ابوطالب کے پاس آئے اور کہا کہ اے ابو طالب ! یا تو تم اپنے بھتیجے ( یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم ) کو منع کرو کہ وہ ہمارے بتوں کو برا نہ کہے اور ہمارے باپ دادا کو جاہل اور گمراہ نہ بتائے۔ورنہ ہمیں اجازت دو کہ ہم خود اسے سمجھ لیں کیونکہ اس کی مخالفت میں تم بھی ہمارے شریک ہو یعنی تم بھی ہماری طرح ابھی مسلمان نہیں ہوئے۔پس تم ہمارے اور اس کے درمیان میں دخل نہ دینا۔ابوطالب نے لوگوں کو نہایت شائستگی کے ساتھ جواب دے کر اور خوش کر کے رخصت کر دیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح اپنے دین کا اعلان کرتے رہے، باوجود کہنے کے بھی۔قریش کی حضور سے آتش عداوت (جو عداوت اور دشمنی کی آگ تھی) وہ ہر وقت لمحہ بہ لمحہ بڑھتی چلی گئی۔یہاں تک کہ دوبارہ وہ ابو طالب کے پاس آئے اور کہنے لگے اے ابو طالب ! تم ایک شریف اور عمر رسیدہ شخص ہو اور ہم تم کو ذی عزت خیال کرتے ہیں۔ہم نے تم سے درخواست کی کہ تم اپنے بھتیجے کو منع کرو تم نے منع نہ کیا۔قسم ہے خدا کی ، ہم ان باتوں پر صبر نہیں کر سکتے کہ ہمارے بتوں اور بزرگوں کو سخت باتیں کہی جائیں۔یا تو تم اس بات کو دور کرو ورنہ ہم تم سے کہے دیتے ہیں کہ دونوں فریقوں میں سے ایک فریق ضرور ہلاک ہو گا۔یہ کہہ کر وہ چلے آئے۔ابو طالب کو اپنی قوم کی عداوت اور علیحدگی نہایت شاق گزری اور انہیں وجوہات سے مجبور اوہ نہ آپ پر ایمان لا سکے اور نہ