خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 642
خطبات مسرور جلد سوم 642 خطبہ جمعہ 28 اکتوبر 2005ء عورتوں کے لئے حکم ہے گھروں میں پانچ نمازیں پڑھیں، وقت پر نماز میں ادا کریں۔اپنی نمازوں کی خاطر دوسری مصروفیات کو کم کریں۔جس طرح آج کل رمضان میں ہر ایک کوشش کر کے نمازوں کی طرف توجہ دے رہا ہوتا ہے، قرآن پڑھنے کی طرف توجہ دے رہا ہوتا ہے۔تو اس طرح رمضان کے بعد بھی وقت پر پانچوں نمازیں ادا کرو۔کوئی دوستی اللہ تعالیٰ کی دوستی سے بڑھ کر نہ ہو۔اس ذات پر ایسا ایمان ہو جو کسی اور پر نہ ہو اور ہمیشہ اسی کو مدد کے لئے پکارو۔یہ نہ ہو کہ بعض دفعہ بعض معاملات میں مدد کے لئے تم غیر اللہ کی طرف جھک جاؤ ، ان سے مدد مانگنے لگو۔اگر یہ صورت ہوگی تو یہ کمزور ایمانی حالت ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنی ایمانی حالت کو بڑھاؤ۔میرے پر پختہ اور کامل یقین رکھو۔ہم کہہ تو دیتے ہیں کہ ہمیں خدا پر بڑا پکا ایمان ہے لیکن بعض دفعہ ایسے عمل سرزد ہو جاتے ہیں جو ہمارے دعوے کی نفی کر رہے ہوتے ہیں۔ایمان کی تعریف یہ ہے کہ حق کی یا سچائی کی تصدیق کر کے اس کا فرمانبردار ہو جائے۔اب ہر ایک اپنا جائزہ لے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کے بعد، یہ تصدیق کرنے کے بعد کہ آپ خدا کے مسیح ہیں اور حق پر ہیں کس حد تک ہم نے آپ کی باتوں کی فرمانبرداری کی ہے۔اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے کے لئے آپ نے جن شرائط پر ہم سے بیعت لی ہے اس تعلیم پر کس حد تک ہم عمل کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں جو احکامات دیئے ہیں ان پر کس حد تک عمل کر کے ہم فرمانبرداری کا ثبوت دے رہے ہیں۔اور کس حد تک ہم نے فرمانبرداری کرنی ہے اس فرمانبرداری کی مزید وضاحت ، اس ایمان کی حالت کی مزید وضاحت اس طرح ہوتی ہے کہ ہمارا دل بھی اس بات کی تصدیق کر رہا ہو، ہماری زبان بھی اس بات کا اقرار کر رہی ہو اور ہمارے ہر عضو کا، جسم کے ہر حصے کا عمل بھی اس بات کی تصدیق کر رہا ہو۔تو یہ ہے ایمان کی حالت۔اکثر دفعہ اکثر کا دل تو اس بات کی تصدیق کر رہا ہوتا ہے یا کم از کم یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ یہ بات صحیح ہے، یہ بات حق ہے، یہ سچ ہے لیکن وہ صرف دل میں یہ تسلیم کر رہے ہوتے ہیں گو بعض دفعہ زبان سے بھی اظہار کر دیتے ہیں کہ یہ بات حق ہے، یہ سچ ہے اور میرا دل خدا پر ایمان لاتا ہے۔میں خدا کو مانتا ہوں۔لیکن اس چیز سے ایمان مکمل نہیں ہو جاتا بلکہ جسم کے ہر عضو سے، ہر حصے سے یہ اظہار ہونا چاہئے کہ میرا