خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 473
خطبات مسرور جلد سوم 473 خطبه جمعه 5 راگست 2005 ء روک بیچ میں نہ آئے۔اس انعام پر بھی ہم اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے۔اللہ تعالیٰ کے یہ فضل اور انعام ہیں جو ہمیں مزید اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنے والا بنانے والے ہونے چاہئیں۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی اعلان کیا تھا کہ تمام دنیا کے احمدی جو سہولت سے اس نئی زمین کو خریدنے میں حصہ ڈال سکتے ہیں ، ڈالیں۔کیونکہ یہ جگہ عملاً تو صرف۔U۔K والوں کے لئے نہیں ہے بلکہ اس جلسے کی حیثیت چونکہ ایک عالمی جلسہ کی بن چکی ہے اس لحاظ سے پوری دنیا اس کو استعمال کر رہی ہے۔اگر صرف۔U۔K کا ہی جلسہ ہو اور باہر کے لوگ اس میں شامل نہ ہوں تو U۔K کا جلسہ تو میرے خیال میں اسلام آباد میں ہی کافی ہو سکتا ہے۔بہر حال اس تحریک پر احباب نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور حسب توفیق لے بھی رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب وعدہ کنندگان کو ادائیگیاں کرنے کی بھی جلد توفیق عطا فرمائے۔اس لئے ان وعدہ کرنے والوں کے لئے بھی دعا کریں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو بھی جزا دے۔مجھے امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ۔U۔K کی جماعت کے افراد بھی اور دوسرے ملکوں میں سے صاحب حیثیت جلد ہی وعدہ کو پورا کر کے رقم ادا کرنے والے ہوں گے تا کہ جلد قیمت ادا کی جاسکے۔اور یہی چیز ہے جو آپ کو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والا اور شکر ادا کرنے والا بنائے گی اور اس طرح آپ مزید اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اپنے او پر برستا دیکھیں گے۔اس دفعہ جلسہ پر اللہ کے جو بہت سارے فضل ہوئے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی فضل ہوا، جس کے لئے ہم خدا تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے کہ جماعت کے تعارف کے سامان اللہ تعالیٰ نے خود بخود پیدا فرمائے۔بعض میڈیا اور اخباروں نے اس طرح خبروں کی اشاعت کی جس سے نہ صرف جماعت کا تعارف ہوا بلکہ اسلام کا بھی نام روشن ہوا۔اور بعض جگہ یہ جو کہا جارہا ہے کہ ٹرین بم دھماکوں میں ملوث پاکستانی تھے ، پاکستانیوں کا نام لیا جا رہا ہے۔تو اس جلسہ کی وجہ سے بعض جگہ پاکستان کے نام سے بھی دھبہ دھلتا ہوا ہمیں نظر آتا ہے۔یہاں بی بی سی نے اور میڈیا نے مختلف ٹیلیویژن سٹیشنوں نے ، اخباروں نے عموماً بڑی اچھی کوریج دی، اور پہلے سے بہتر دی۔اسی طرح امریکہ کے ایک ٹی وی چینل نے لوائے احمدیت لہرانے کی تقریب دکھائی اور