خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 463
خطبات مسرور جلد سوم 463 خطبہ جمعہ 29 جولائی 2005ء سا برداشت کریں اور سٹال لگانے والوں کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ جس طرح گزشتہ سال انہوں نے اعلیٰ نمونہ دکھایا تھا سال بند کئے تھے، اس سال بھی بند رکھیں۔اور شعبہ تربیت اس کا جائزہ لیتا ر ہے۔ہنگامی حالت میں اگر کسی کو ضرورت پڑے کھانے پینے کی مثلاً بعض مریض ہوتے ہیں تو مہمان نوازی کا شعبہ ہے وہ ان کی ضرورت پوری کر سکتا ہے۔اور مہمان نوازی کے جو کارکنان ہیں ان کو مین آفس میں بھی اور رہائش گا ہوں میں بھی رہنا چاہئے تا کہ اگر کسی مریض وغیرہ کی کوئی ضرورت ہے تو وہ پوری کرسکیں۔کارکنان بھی دعاؤں پر زور دیں کہ اللہ کے فضل سے تمام کام خیریت سے ہوں۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ہونے ہیں اس لئے دعاؤں کے بغیر چارہ نہیں۔اور اللہ تعالیٰ اگر خوش ہو گیا تو مہمان خود ہی آپ سے خوش ہو جائیں گے۔نمازوں کا بھی با قاعدہ انتظام رکھیں ان کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ دیں۔بچوں والی مائیں یا باپ جو بچوں کو لے کر آتے ہیں وہ کوشش کریں کہ بچوں کے لئے جو مخصوص جگہیں ہیں وہیں بیٹھیں۔وہاں اگر جگہ نہیں ہے تو مار کی کے بالکل پچھلے حصے میں بیٹھیں تا کہ باقی جلسہ گاہ اس شور سے یا بچوں کی بے چینی سے ڈسٹرب نہ ہو۔اور جیسا کہ میں نے کہا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباس سے بھی بتایا ہے کہ جلسے کے جو پروگرام میں ان کو غور سے سنیں اور خواتین پردے کا خیال رکھیں۔مرد بھی غض بصر سے کام لیں ،نظریں نیچی رکھیں اور پھر یہ ہے کہ صفائی کا خاص خیال رکھیں۔اس دفعہ یہ جو جگہ ہے یہ کرائے کی ہے عارضی طور پر لی گئی ہے۔اس لئے ہر شخص چاہے باہر سے آنے والے مہمان ہیں یا۔U۔K سے آنے والے مہمان یا یہاں کے کارکنان ہیں وہ اپنے ارد گرد صفائی کا ضرور خیال رکھیں۔اور چلتے چلتے بھی اگر کوئی چیز پڑی ہوئی دیکھیں تو فوری طور پر اسے اٹھا کر ڈسٹ بن (Dust Bin) میں ڈالنے کی کوشش کریں تا کہ اس جگہ پر مالکان کو یہ احساس نہ ہو کہ یہ لوگ جلسہ کر کے ہمارے علاقے میں گند ڈال کے چلے گئے ہیں۔اور جیسا کہ میں نے ذکر کیا تھا کہ آجکل کے حالات کی وجہ سے بعض شدت پسند لوگوں میں مسلمانوں کے خلاف تناؤ ہے اور بعض چھوٹے چھوٹے شہروں میں اس کا اظہار بھی ہوا ہے۔ان لوگوں بیچاروں کو تو جماعت احمد یہ کا پتہ نہیں۔وہ ہمیں بھی ان جیسا ہی سمجھتے ہیں کہ شاید یہ بھی اس طرح کے لوگ ہیں جو دہشت گرد