خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 458 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 458

خطبات مسرور جلد سوم 458 خطبہ جمعہ 29 جولائی 2005ء بھی ماشاء اللہ لوگ مہمان نوازی کرتے ہیں۔اور اپنے گھر مہمانوں کے لئے پیش کر دیتے ہیں لیکن بعض مہمان ضرورت سے زیادہ توقعات بھی رکھ لیتے ہیں اور اپنے مہمان ہونے کا ناجائز حق جتاتے ہیں۔مثلاً بعض مہمان کہتے ہیں کہ ہم دوسرے ملک سے آئے ہوئے ہیں یا پاکستان سے آئے ہوئے ہیں پتہ نہیں دوبارہ موقع ملتا ہے کہ نہیں ملتا ہم شاپنگ کرنا چاہتے ہیں، ہمیں شاپنگ کے لئے لے کر جاؤ۔پھر شا پنگ کے لئے اس بیچارے میزبان کا خرچ بھی کروا دیتے ہیں۔کچھ تو وہ شرم میں ایسے مہمانوں کو ساتھ لے جا کر تحفہ دے دیتا ہے کچھ یہ کہہ کر اس سے شاپنگ کروا لیتے ہیں کہ اس وقت پونڈ میں پیسے نہیں ہیں، واپس جا کر پیسے ادا کر دیں گے یا اگر یورپ میں جرمنی وغیرہ میں ہیں تو یورو میں واپس جا کر دے دیں گے۔یہ ان ملکوں میں جب بھی آتے ہیں تو اسی طرح ہوتا ہے بعض کی طرف سے، عموماً نہیں، ایسے چند ایک ہی ہوتے ہیں۔اُس سے پھر اس طرح شاپنگ کی ادائیگی بھی کروا دیتے ہیں۔تو اس سے احتیاط کرنی چاہئے۔جیسا کہ میں نے کہا گو اس قسم کے شاپنگ کروانے والے، زبر دستی کرنے والے یا بے جھجک ہو کر شاپنگ کروانے والے چند ایک ہی ہوتے ہیں لیکن یہ چند ایک ہی بعض دفعہ بدنامی کا باعث بن جاتے ہیں۔گھر والا بیچارہ ان مہمانوں کو رکھ کے تو مشکل میں پڑ جاتا ہے کہ چند دنوں کے لئے اپنے گھر سے بھی باہر ہوا، اپنے وقت کا بھی ضیاع کر دیا اور زبردستی کا ادھار بھی دینا پڑ گیا۔شاپنگ بھی کروانی پڑ گئی۔تو بعض عجیب طبیعتیں ہوتی ہیں اور بعض لوگوں کی قریبی رشتہ داری اور تعلق بھی نہیں ہوتا پھر بھی یہ مطالبے کر رہے ہوتے ہیں۔تو ان پر تو پنجابی کی مثال ہے وہی اصل میں صادق آتی ہے ایسے مہمانوں پر کہ لیا د یو تے لد دیو، تے لدن والا نال دیو کہ سامان بھی دو، اٹھا کے پہنچاؤ بھی اور ہمارے ساتھ کوئی بھیجو بھی جو گھر تک چھوڑ کے بھی آئے۔کیونکہ بعض دفعہ اتنی زیادہ شاپنگ ہو جاتی ہے کہ اپنی ٹکٹ کے مطابق تو وزن کی اتنی گنجائش نہیں ہوتی کہ سامان لے جاسکیں اور پیچھے چھوڑ جاتے ہیں کہ ہمارا سامان بھجوا بھی دینا۔ہر ایک جانے والے کا اپنا اپنا سامان ہوتا ہے۔بھجوانے میں دیر بھی لگ جاتی ہے کبھی کوئی ایسا نہیں ملتا جو خالی ہاتھ جا رہا ہو جو سامان لے جاسکے اور جب عرصہ گزر جاتا ہے اور کچھ وقت لگ جاتا ہے تو پھر شکوے شروع ہو جاتے ہیں کہ جی بڑا غیر ذمہ دار