خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 442
خطبات مسرور جلد سوم 442 خطبہ جمعہ 22 جولائی 2005 ء آخری رضا ئی تھی وہ بھی مہمانوں کو دے دی اور خود ساری رات تکلیف میں گزاری تا کہ مہمانوں کو تکلیف نہ ہو۔پھر ایک دفعہ مہمان نوازی کے بارے میں ذکر ہوا تو فرمایا کہ: ”میرا ہمیشہ خیال رہتا ہے کہ کسی مہمان کو تکلیف نہ ہو۔بلکہ اس کے لئے ہمیشہ تاکید کرتا رہتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکے مہمانوں کو آرام دیا جاوے۔مہمان کا دل مثل آئینہ کے نازک ہوتا ہے اور ذراسی ٹھیس لگنے سے ٹوٹ جاتا ہے۔اس سے پیشتر میں نے یہ انتظام کیا ہوا تھا کہ خود بھی مہمانوں کے ساتھ کھانا کھاتا تھا۔مگر جب سے بیماری نے ترقی کی اور پر ہیزی کھانا کھانا پڑا تو پھر وہ التزام نہ رہا۔ساتھ ہی مہمانوں کی کثرت اس قدر ہو گئی کہ جگہ کافی نہ ہوتی تھی اس لئے بمجبوری علیحدگی ہوئی۔ہماری طرف سے ہر ایک کو اجازت ہے کہ اپنی تکلیف کو پیش کر دیا کرے۔بعض لوگ بیمار ہوتے ہیں ان کے واسطے الگ کھانے کا انتظام ہو سکتا ہے۔(ملفوظات جلد 3 صفحه 292 جدید ایڈیشن - البدر مورخه 15 مئی 1903ء صفحه 130) ایک دفعہ آپ نے جب مہمان بہت سارے آئے ہوئے تھے میاں نجم الدین صاحب کو جو لنگر خانے کے انچارج تھے، فرمایا، تاکید کی کہ دیکھو بہت سے مہمان آئے ہوئے ہیں ان میں سے بعض کو تم شناخت کرتے ہو اور بعض کو نہیں۔اس لئے مناسب یہ ہے کہ سب کو واجب الا کرام جان کر تواضع کرو۔سردی کا موسم ہے چائے پلاؤ اور تکلیف کسی کو نہ ہو۔تم پر میرا حسن ظن ہے کہ مہمانوں کو آرام دیتے ہو۔ان سب کی خوب خدمت کرو۔اگر کسی کو گھر یا مکان میں سردی ہو تو لکڑی یا کوئلہ کا انتظام کر دو“۔(ملفوظات جلد 3 صفحه 492 جدید ایڈیشن - البدر 18 جنوری 1904ء صفحه 4٬3) تو دیکھیں کس طرح مہمانوں کی خدمت کی نصیحت فرمائی۔خدا کرے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ حسن ظن جو آپ نے اپنے کارکنوں اور مہمان نوازی کرنے والوں سے اس وقت بھی کیا تھا آج بھی وہ قائم رہے اور ہمیشہ قائم رہے۔یہ اُسوہ حسنہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہمان نوازی کا ہمارے سامنے رکھا اور جس طرح آپ نے اپنے ماننے والوں کو اس طرف توجہ دلائی، اپنی امت کو اس طرف توجہ دلائی اور جس کی مثالیں اس زمانے میں حضرت مسیح موعود