خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 378
خطبات مسرور جلد سوم 378 خطبہ جمعہ 24 / جون 2005ء ہاتھ سے نہ نکل جائے۔یا پھر اس لئے بھی رشتے ٹوٹتے ہیں کہ بعض پاکستان سے آنے والے لڑکے، باہر آنے کے لئے رشتے طے کر لیتے ہیں اور یہاں پہنچ کر پھر رشتے توڑ دیتے ہیں۔کچھ بھی ایسے لوگوں کو خوف نہیں ہے۔ان لڑکوں کو کچھ تو خدا کا خوف کرنا چاہئے۔ان لوگوں نے ، جن کے ساتھ آپ کے رشتے طے ہوئے ، آپ پر احسان کیا ہے کہ باہر آنے کا موقع دیا۔تعلیمی قابلیت تمہاری کچھ نہیں تھی۔ایجنٹ کے ذریعے سے آتے تو 15-20 لاکھ روپیہ خرچ ہوتا۔مفت میں یہاں آ گئے۔کیونکہ اکثر یہاں آنے والے لڑکے ٹکٹ کا خرچہ بھی لڑکی والوں سے لے لیتے ہیں۔تو یہاں آ کر پھر یہ چالاکیاں دکھاتے ہیں۔یہاں آکر رشتے توڑ کر کوئی اپنی مرضی کا رشتہ تلاش کر لیتا ہے یا پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق بعض رشتے ہو جاتے ہیں۔اور بعض دوسری بیہودگی میں پڑ جاتے ہیں۔اور پھر ایسے لڑکوں کے ماں باپ بھی ان کے ساتھ شامل ہوتے ہیں ، چاہے وہ یہاں رہنے والے ہیں یا پاکستان میں رہنے والے ماں باپ ہیں۔پھر بعض مائیں ہیں جولڑکیوں کو خراب کرتی ہیں اور لڑکے سے مختلف مطالبے لڑکی کے ذریعے کرواتی ہیں۔کچھ خدا کا خوف کرنا چاہئے ایسے لوگوں کو۔پھر بعض لڑکے، لڑکیوں کی جائیدادوں کے چکر میں ہوتے ہیں۔بچے بھی ہو جاتے ہیں لیکن پھر بھی بجائے اس کے کہ بچوں کی خاطر قربانی دیں قانون سے فائدہ اٹھا کر علیحدگی لے کر جائیداد ہڑپ کرتے ہیں۔اور اگر بیوی نے بیوقوفی میں مشترکہ جائیداد کر دی تو جائیداد سے فائدہ اٹھایا اور پھر بچوں اور بیوی کو چھوڑ کر چلے گئے۔کچھ مرد غلط اور غلیظ الزام لگا کر بیویوں کو چھوڑ دیتے ہیں جو کسی طرح بھی جائز نہیں۔ایسے لوگوں کا تو قضا کو کیس سننا ہی نہیں چاہئے جو اپنی بیویوں پر الزام لگاتے ہیں۔ان کو سیدھا انتظامی ایکشن لے کر امیر صاحب کو اخراج کی سفارش کرنی چاہئے۔غرض کہ ایک گند ہے جو کینیڈا سمیت مغربی ملکوں میں پیدا ہورہا ہے۔اور پھر اس طبقے کے لوگ ایک دوسرے کو تکلیف پہنچا کر خوش ہوتے ہیں۔بعض بچیوں کے جب دوسری جگہ رشتے ہو جاتے ہیں تو ان کو تڑوانے کے لئے غلط قسم کے خط لکھ رہے ہوتے ہیں۔کوئی خوف نہیں ایسے لوگوں کو۔اللہ تعالیٰ کے عظمت و جلال کی