خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 302 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 302

خطبات مسرور جلد سوم 302 خطبہ جمعہ 20 رمئی 2005 ء ہیں شیطان بازو پھیلائے کھڑا ہے۔اس کے حملے اور اس کے لالچ اس قدر شدید ہیں کہ سمجھ نہیں آتی اُن سے کیسے بچا جائے۔ہر کونے پر ، ہر سڑک پر ، ہر محلے میں ، ہر شہر میں شیطانی چرنے کام کر رہے ہیں۔اور سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہو ان شیطانی حملوں سے بچنا مشکل ہے۔جدھر دیکھو کوئی نہ کوئی بلا منہ پھاڑے کھڑی ہے۔دنیا کی چیزوں کی اتنی اٹریکشن (Attraction) ہے، وہ اتنی زیادہ اپنی طرف کھینچتی ہیں اور سمجھ نہیں آتی کہ انسان کس طرح اپنے پیدائش کو سمجھے اور اس کی عبادت کرے۔لیکن ہم پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص احسان ہے کہ اُس نے خود ہی ان چیزوں سے بچنے کے لئے راستہ دکھا دیا ہے کہ مستقل مزاجی اور مضبوط ارادے کے ساتھ استغفار کرو تو شیطان جتنی بار بھی حملہ کرے گا منہ کی کھائے گا اور اس کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: مقصد اور یہ کہ تم اپنے رب سے استغفار کرو، پھر اس کی طرف تو بہ کرتے ہوئے جھکو تو وہ تمہیں ایک مقررہ مدت تک بہترین معیشت عطا کرے گا۔اور وہ ہر صاحب فضیلت کو اس کے شایان شان فضل عطا کرے گا۔اور اگر تم پھر جاؤ تو یقینا میں تمہارے بارے میں ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔تو دیکھیں فرمایا کہ استغفار کرو اور جو استغفار نیک نیتی سے کی جائے ، جو تو بہ اس کے حضور جھکتے ہوئے کی جائے کہ اے اللہ ! یہ دنیاوی گند، یہ معاشرے کے گند، ہر کونے پر پڑے ہیں۔اگر تیرا فضل نہ ہو، اگر تو نے مجھے مغفرت کی چادر میں نہ ڈھانپا تو میں بھی ان میں گر جاؤں گا۔میں اس گند میں گرنا نہیں چاہتا۔میری پچھلی غلطیاں، کوتاہیاں معاف فرما، آئندہ کے لئے میری توبہ قبول فرما۔تو جب اس طرح استغفار کریں گے تو اللہ تعالیٰ پچھلے گناہوں کو معاف کرتے ہوئے ، توبہ قبول کرتے ہوئے ، اپنی چادر میں ڈھانپ لے گا۔اور پھر اپنی جناب سے اپنی نعمتوں سے حصہ بھی دے گا۔دنیا بجھتی ہے کہ دنیا کے گند میں ہی پڑ کر یہ دنیاوی چیز یں ملتی ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو تو بہ کرنے والے ہیں، جو استغفار کرنے والے ہیں، ان