خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 110
خطبات مسرور جلد سوم 110 خطبہ جمعہ 25 فروری 2005ء ہے کہ اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرو۔لیکن آپ یہ دعا مانگ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ! میرے اخلاق و عادات واطوار ہمیشہ اچھے ہی رکھنا۔دنیا داروں میں دیکھ لیں اگر کوئی افسر کسی کی تعریف کر دے تو دماغ آسمانوں پر چڑھ جاتا ہے کہ میں پتہ نہیں کیا چیز بن گیا ہوں۔اب یہ اعتراض کرنے والے بتائیں جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اعتراض کرتے ہیں کہ کیا انسانی تاریخ میں اس جیسا عاجزی کا پیکر کوئی نظر آتا ہے۔آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ہر وقت یہ کوشش ہوتی تھی کہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے اخلاق پر ڈھالیں۔اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے حکموں کے مطابق اپنی زندگی گزاریں اور یوں اپنی امت کے لئے کامل اور مکمل نمونہ بنیں۔اور آپ نے یہ ثابت کر دکھایا۔چنانچہ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق قرآن کے عین مطابق تھے وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی میں خوش ہوتے تھے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی ہوتی تھی۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں تو اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں۔(الشفاء لقاضي عياض - الباب الثانى - الفصل العاشر الاخلاق الحميدة) اور یہ کوئی چند ایک یا دس ہیں واقعات نہیں ہیں جن سے آپ کے اخلاق کا ہمیں پتہ چلتا ہے۔اور اس بارے میں صرف آپ کی بیوی کی ہی گواہی نہیں ہے۔گھر یلو زندگی کا اندازہ کرنے کے لئے بیوی کی گواہی بھی بہت بڑی گواہی ہوتی ہے اور بیوی بچوں کی گواہیوں سے ہی کسی کے گھر کے اندرونی حالات کا اور کسی کے اعلیٰ اخلاق کا پتہ لگتا ہے۔لیکن آپ کے اعلیٰ اخلاق کے بارے میں تو ہزاروں مثالیں مختلف طبقات کے لوگوں سے مل جاتی ہیں۔خادم جو گھر کے اندر خدمت کے لئے ہو، گھر کے حالات سے بھی باخبر رہتا ہے اور باہر کے حالات سے بھی باخبر رہتا ہے۔انہیں خدام میں سے ایک حضرت انس تھے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سے سب سے زیادہ اچھے اخلاق کے مالک تھے۔حضرت انس کا یہ بیان بھی ہے کہ اتنا عرصہ میں نے خدمت کی ، 10-12 سال جو خدمت کی کبھی آج تک کسی بات پر ، میری کسی کوتا ہی پر ،