خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 99 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 99

خطبات مسرور جلد سوم 99 خطبہ جمعہ 18 فروری 2005ء دن بیویوں میں غرق رہنے والا خدا تعالیٰ کے منشاء کے موافق رات کیسے عبادت میں کاٹ سکتا ہے۔وہ بیویاں کیا کرتا ہے گویا خدا کے لئے شریک پیدا کرتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں اور باوجود ان کے آپ ساری ساری رات خدا تعالیٰ کی عبادت میں گزارتے تھے۔ایک رات آپ کی باری عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی، کچھ حصہ رات کا گزر گیا تو حضرت عائشہ کی آنکھ کھلی۔دیکھا کہ آپ موجود نہیں۔اسے شبہ ہوا کہ شاید آپ کسی اور بیوی کے ہاں گئے ہوں۔اس نے اٹھ کر ہر ایک گھر میں تلاش کیا مگر آپ نہ ملے۔آخر دیکھا کہ آپ قبرستان میں ہیں اور سجدہ میں رور ہے ہیں۔اب دیکھو کہ آپ زندہ اور چہیتی بیوی کو چھوڑ کر مردوں کی جگہ قبرستان میں گئے اور روتے رہے۔تو کیا آپ کی بیویاں حظ نفس یا اتباع شہوت کی بنا پر ہوسکتی ہیں۔( ملفوظات جلد 4 صفحه 50-51 جدید ایڈیشن - البدر 8جولائی 1904 صفحه 3°2) لیکن اعتراض کرنے والوں کو یہ چیز کبھی نظر نہیں آئے گی۔سیہ واقعہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں بیان ہوا ہے اس کی تفصیل حضرت عائشہ یوں بیان فرماتی ہیں: ایک رات حضور میرے پاس تشریف لائے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم سونے کے لئے لیٹے مگر سوئے نہیں۔اٹھ بیٹھے اور کپڑا اوڑھ لیا۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میرے دل میں سخت غیرت پیدا ہوئی۔میں نے خیال کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم شاید میری کسی سوکن کے ہاں تشریف لے جارہے ہیں۔تو کہتی ہیں کہ میں آپ کے تعاقب میں گئی تو میں نے آپ کو بقیع قبرستان میں دیکھا۔آپ مومن مردوں ، عورتوں اور شہداء کے لئے مغفرت طلب کر رہے تھے۔حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں نے اپنے دل میں کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان۔آپ اپنے رب کی طلب میں لگے ہوئے ہیں۔اور میں دنیا کے خیالات میں ہوں۔کہتی ہیں میں جلدی جلدی وہاں سے واپس آگئی۔کچھ دیر کے بعد حضور بھی میرے پاس تشریف لے آئے جبکہ ابھی تیز چلنے کی وجہ سے میرا سانس پھولا ہوا تھا۔تو حضور نے دریافت کیا کہ اے عائشہ ! تیرا سانس کیوں پھولا ہوا ہے؟ تو میں نے حضور کو ساری بات بتائی۔اس پر آپ نے فرمایا اے عائشہ ! کیا تجھے اس بات کا ڈر ہے کہ اللہ اور اس کا رسول تیری حق تلفی کریں گے۔اصل بات یہ ہے کہ