خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 70
خطبات مسرور جلد سوم 70 خطبہ جمعہ 14 فروری 2005ء کا نبی ہے۔اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔وہ تو حید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر نے محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی۔اس لئے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضلیت بخشی اور اس کی مرادیں اس کی زندگی میں اس کو دیں۔(حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحه 118-119) پھر آپ فرماتے ہیں کہ : " قرآن کریم کو پڑھ کر دیکھ لو۔اور تو اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر دنیا میں کسی کامل انسان کا نمونہ موجود نہیں اور نہ آئندہ قیامت تک ہو سکتا ہے۔پھر دیکھو کہ اقتداری معجزات کے ملنے پر بھی حضور کے شامل حال ہمیشہ عبودیت ہی رہی۔اور بار بار إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ ﴾ (الكهف : 111) ہی فرماتے رہے یہاں تک کہ کلمہ توحید میں اپنی عبودیت کے اقرار کا ایک جزو لازم قرار دیا۔جس کے بدوں ( یعنی جس کے بغیر ) مسلمان مسلمان ہی نہیں ہو سکتا۔سوچو اور پھر سوچو۔پس جس حال میں بادی اکمل کی طرز زندگی ہم کو یہ سبق دے رہی ہے کہ اعلیٰ ترین مقام قرب پر بھی پہنچ کر عبودیت کے اعتراف کو ہاتھ سے نہیں دیا تو اور کسی کا تو ایسا خیال کرنا اور ایسی باتوں کا دل میں لانا ہی فضول اور عبث ہے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 74 - جدید ایڈیشن رپورٹ جلسہ سالانہ 1897 صفحہ 140 ) پس یہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ مقام جس کو قائم کرنے کے لئے اور اللہ تعالیٰ کی محبت دلوں میں پیدا کرنے کے لئے آپ پیدا ہوئے تھے۔ایک اعلیٰ انسان اور عبد رحمن کا مقام جو کسی کو ملاوہ سب سے اعلیٰ مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا۔اور بندے کی پہچان اپنی ذات کی پہچان اور خدا تعالیٰ کی ذات کی پہچان کرانے کے لئے آپ مبعوث ہوئے تھے۔تو حید کے قیام کے لئے آپ مبعوث ہوئے تھے۔اور ساری زندگی اسی میں آپ نے گزاری۔اور یہی آپ کی خواہش تھی کہ دنیا کا ہر فرد ہر شخص اس توحید پر قائم ہو جائے۔اور اس زمانے میں بھی آپ کے غلام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی پہچان اس تعلیم کی رو سے ہمیں کروائی۔پس