خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 735
خطبات مسرور جلد سوم 735 خطبہ جمعہ 23 / دسمبر 2005ء تھا کہ جو بھی حالات ہوں، انتہائی وسیع حوصلگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔بعض دفعہ ایسے مواقع پیش آ جاتے ہیں کہ مہمان کی طرف سے کسی بات کا مطالبہ ہوتا ہے جو یا تو جلسے کے حالات کے مطابق جائز نہیں ہوتا یا فوری طور پر اس کو پورا کرنا ممکن نہیں ہوتا تو مہمان اس بات پر سخت رویہ اختیار کر لیتے ہیں اور جواباً کارکن بھی اسی رویہ کا مظاہرہ کرتے ہیں حالانکہ ایک کارکن کو زیب نہیں دیتا۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ ہر حالت میں اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہے اس لئے احتیاط کریں۔بعض نئے معاونین بھی ہوتے ہیں جنہوں نے پہلی مرتبہ اس خدمت کا اعزاز پایا ہے بعض طبیعت کے لحاظ سے گرم مزاج کے یا غصیلے ہوتے ہیں۔وہ یاد رکھیں کہ اگر اپنی طبیعت پر کنٹرول نہیں تو ڈیوٹی سے معذرت کر دیں۔یہ زیادہ بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ بداخلاقی کا مظاہرہ کیا جائے جو کسی بھی صورت ایک احمدی کارکن کو زیب نہیں دیتا۔ہمیشہ یاد رکھیں کہ یہ خدا تعالیٰ کی خاطر آئے ہوئے مہمان ہیں۔اس لئے مومن کی یہ شان ہے کہ ان کا احترام کرے۔اللہ تعالیٰ نے مومن متقی کی یہ نشانی بتائی ہے کہ وَالْكَاظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ الناس (آل عمران: (135) یعنی مومن غصہ کو دبانے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہوتے ہیں۔تو جب عام انسان سے بھی اس سلوک کا حکم ہے تو جو اللہ تعالیٰ کی خاطر تکلیف برداشت کر کے آتے ہیں۔ان سے تو بڑھ کر عفو اور درگزر کا سلوک ہونا چاہئے اور خدا تعالیٰ کے اس حکم پر بھی عمل ہونا چاہئے کہ ﴿وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا ﴾ (البقرہ: 84) یعنی لوگوں سے پیار اور محبت سے بات کیا کرو۔یقین ممکن ہے کہ اپنے رویے کی سختی کے بعد آپ کے نرم رویے اور درگزر اور پیار کو دیکھ کر مہمان خود ہی شرمندہ ہو کر اپنے بے موقع مطالبے سے دست بردار ہو جائے۔اور جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ یہ آنے والے مہمان نیک ارادے سے آنے والے ہیں یقیناً کارکنان کے اعلیٰ اخلاق کے رویے سے ان میں اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کا احساس بڑھے گا جبکہ آپ کے سخت رویے سے سوائے کج بحثی یا جھگڑے کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔پھر یہاں کارکنان بھی دو قسم کے ہیں۔ایک تو یہاں بھارت کے رہنے والے ہیں جن میں آگے پھر قسمیں ہیں۔معاشرے اور روایات کے لحاظ سے فرق ہے۔ایک تعداد تو یہاں