خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 710
خطبات مسرور جلد سوم 710 خطبہ جمعہ 9 دسمبر 2005ء اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس جزیرے میں احمدیت 1912 ء میں خلافت اولی کے زمانے میں آئی۔یہاں کے ابتدائی احمدیوں میں سے نور دیا صاحب، ماسٹر محمد عظیم سلطان غوث صاحب، میاں جی رحیم بخش صاحب ، میاں جی سبحان محمد رجب علی صاحب وغیرہ ہیں۔بہر حال یہ ایک لمبی فہرست ہے جو 1912 ء سے لے کر 1920 ء تک کے عرصے میں احمدی ہوئے۔انہیں مخالفتوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ان میں سے بعض کے خلاف قتل کے مقدمے بھی بنائے گئے۔لیکن جس سچائی کو وہ پہچان چکے تھے اس سے وہ ذرا بھر بھی پیچھے نہیں ہے۔بلکہ پہلے مبلغ آنے تک انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یا خلیفہ وقت سے براہ راست تربیت پانے والے کسی شخص کو دیکھا بھی نہیں تھا۔لیکن اس کے باوجود وہ اخلاص و وفا میں بڑھتے رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تمام دعاوی پر جن کا اس وقت تک ان کو علم تھا یا نہیں تھا وہ ایمان لانے والے تھے اور اس فکر میں رہتے تھے کہ ان کو مانیں۔اس فکر میں رہتے تھے کہ کہیں ہم سے یا ہماری نسلوں سے ایمان ضائع نہ ہو جائے۔چنانچہ مکرم ایم اے سلطان غوث صاحب نے حضرت خلیفہ مسیح الثانی کی خدمت میں جماعت کے حالات کے بارے میں لکھا اور مبلغ بھجوانے کے بارے میں درخواست کی ، اپنی وفا اور تعلق کا اظہار کیا۔آخر میں لکھا پیارے آقا آپ ہمیں راستہ دکھائیے اور ہمیں اپنے مذہب کی تعلیم سے مزید آشنا کیجئے۔اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عشق میں اس طرح کھوئے ہوئے تھے، آپ کی سیرت کو اس طرح وہ جاننا چاہتے تھے کہ آخر میں وہ لکھتے ہیں کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے سوانح کی کوئی جلد بھیجی جائے تو مجھ پر بڑا احسان ہوگا۔تو ان لوگوں کو مزید سیکھنے کا بہت شوق تھا اور بار بار مبلغ بھجوانے کا مطالبہ کرتے تھے۔آخر ان کی خواہش کے مطابق 1915ء میں حضرت صوفی غلام محمد صاحب ماریشس پہنچے۔لیکن ائر پورٹ پر ہی ان کو روک لیا گیا۔اور دوسرے مسلمانوں کی طرف سے اس وقت بھی بڑی کوشش ہوئی کہ انہیں واپس بھجوا دیا جائے۔آخر روشن علی بھنو صاحب کی 30 ہزار روپے کی ضمانت پر انہیں ماریشس کی سرزمین پر اترنے کی اجازت ملی۔مکرم صوفی غلام محمد صاحب کی کوششوں سے ماشاء اللہ جماعت آہستہ آہستہ بڑھنی شروع ہوئی۔دوسرے مبلغ یہاں حضرت حافظ عبید اللہ صاحب