خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 680
خطبات مسرور جلد سوم 680 خطبہ جمعہ 18 /نومبر 2005ء ہورہے ہیں اور عہد توڑنے کے ساتھ ساتھ خیانت بھی کر رہے ہیں۔تو ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ بے ایمان اور بے دین لوگ ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں امانت، دیانت اور لین دین میں اعلیٰ معیار قائم کرنے کا جو احساس پیدا کیا، جو تربیت کی اس کا نتیجہ یہ تھا کہ بعض دفعہ صحابہ سودے میں اس بات پر بحث کیا کرتے تھے کہ مثلاً لینے والا یا خرید نے والا کسی چیز کی قیمت زیادہ بتا رہا ہے اور دینے والا اس کی قیمت کم بتا رہا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ ”ایک دفعہ ایک صحابی ایک دوسرے صحابی کو ایک گھوڑا بیچنے لگے اور اس کی جو قیمت بیچنے والے نے بتائی وہ خریدنے والے کے نزدیک کم تھی۔انہوں نے اس کی قیمت تین چار گنا کر کے بتائی۔اور اس بات پہ جھگڑا ہو گیا۔لینے والا کہہ رہا ہے میں کم قیمت لوں گا۔دینے والا کہہ رہا ہے کہ نہیں میں زیادہ قیمت دوں گا۔( تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ 249) تو یہ تھے وہ معیار جو صحابہ نے حاصل کئے۔اور یہی معیار ہیں جو ایک مومن کو حاصل کرنے چاہئیں، جن باتوں کا ایک مومن کو خیال رکھنا چاہئے اور اس طرح اپنی امانت اور دیانت کے معیاروں کو بڑھانا چاہئے۔ایک بہت بڑی بیماری جو دنیا میں عموماً ہے اور جس کی وجہ سے بہت سارے فساد پیدا ہوتے ہیں وہ ہے کاروبار کے لئے یا کسی اور مصرف کے لئے قرض لینا اور پھر ادا کرتے وقت ٹال مٹول سے کام لینا۔بعض کی تو نیت شروع سے ہی خراب ہوتی ہے کہ قرض لے لیا پھر دیکھیں گے کہ کب ادا کرنا ہے۔اور ایسے لوگ باتوں میں بھی بڑے ماہر ہوتے ہیں جن سے قرض لینا ہوان کو ایسا باتوں میں چراتے ہیں کہ وہ بیوقوف بن کے پھر رقم ادا کر دیتے ہیں یا کاروباری شراکت کر لیتے ہیں۔بہر حال ایسے ہر دو قسم کے قرض لینے والوں کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے لوگوں سے واپس کرنے کی نیت سے مال قرض پر لیا اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے ادائیگی کے سامان کر دے گا۔اور جو شخص مال ہڑپ کرنے کی نیت سے قرض لے گا اللہ تعالیٰ اسے تلف کر دے گا“۔(بخاری، کتاب فى الاستقراض، باب من اخذ اموال الناس۔۔۔۔۔۔)