خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 675
خطبات مسرور جلد سوم 675 خطبہ جمعہ 18 /نومبر 2005ء مسلمانوں کو بھی سمجھانا چاہئے کہ سب سے اول یہ حکم تمہارے لئے ہے کہ اس تعلیم پر عمل کرو۔کیونکہ ہمارے مسلمان ملکوں میں سے جس کسی کا بس چلتا ہے انفرادی طور پر ماپ تول اور لین دین میں تقریباً سبھی ڈنڈی مارنے والے ہیں، دھوکہ دینے والے ہوتے ہیں۔عیسائی مغربی ممالک کم از کم چھوٹی اور انفرادی تجارت میں کافی حد تک ایمانداری سے اپنی چیز میں بیچتے ہیں اور لین دین کرتے ہیں اور عموماً اسی اعتماد پر ان سب کے کاروبار بھی چل رہے ہوتے ہیں۔لیکن مسلمان ملکوں میں اس کی بہت زیادہ کمی ہے۔کئی ملکوں سے تجارت ہوتی ہے اور مغربی ممالک سے بڑے بڑے آرڈر ملتے ہیں۔لیکن آہستہ آہستہ بعض کا روباری مسلمان بھائی کا روبار سیج نہیں رکھتے اور دھو کے کی وجہ ہے وہ تجارتیں بجائے پھیلنے کے کم ہوتی چلی جاتی ہیں۔اور سمجھتے یہ ہیں کہ ہم نے دوسرے کو دھوکہ دے کر تیر مار لیا۔جبکہ بعد میں وہ نقصان اٹھا رہے ہوتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو انذار فرمایا ہے یعنی جو اس کا علم رکھنے والے اور اس کتاب کو ماننے والے ہیں کہ یہ سب سے زیادہ اس کے نیچے آتے ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ مسلمان بحیثیت قوم ترقی نہیں کر پا رہے۔کیونکہ ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے بڑا واضح طور پر کھول کر ان پرانی قوموں کے واقعات بتائے ہیں اور احکامات بھی دیئے ہیں کہ یہ یہ باتیں تم نے نہیں کرنی اور یہ یہ کرنی ہیں۔اس لئے ہم بہر حال جب تک اس پر عمل نہیں کرتے ، ترقی نہیں کر سکتے۔دوسروں کو تو ڈھیل زیادہ لمبا عرصہ ہو سکتی ہے لیکن مسلمانوں کو نہیں۔پس آج دنیا کو ہر مصیبت ، آفت اور پریشانی سے بچانے کے لئے ہر قسم کے اعلیٰ خلق پر عمل اور اس کی تبلیغ کرنا ہر احمدی کا فرض ہے۔اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے کیا اسوہ قائم فرمایا۔کس طرح آپ متجارت اور لین دین اور اس کے معاہدے کیا کرتے تھے، کس طرح اپنے عہد پورے کیا کرتے تھے، کس طرح قرضے اتارا کرتے تھے آپ نے اپنی امت کو بھی نصیحتیں فرمائیں کہ کس طرح لین دین کیا کرو۔اور یہ سب تعلیم آپ نے ہمیں اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق دی اس کی چند مثالیں یہاں پیش کرتا ہوں۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت عداء بن خالد بن هو ذه رضی اللہ عنہ روایت