خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 647
خطبات مسرور جلد سوم 647 خطبہ جمعہ 28 اکتوبر 2005ء کا محاسبہ کرتے ہوئے لیلتہ القدر کی رات قیام کیا اسے اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے۔(بخاری کتاب فضل ليلة القدر - باب فضل ليلة القدر) گزشتہ گناہ بخشے جانے کا مطلب ہی یہی ہے کہ اس کو آئندہ سے گناہ سے نفرت پیدا ہو جائے گی اور نیکیاں کرنے کی طرف توجہ زیادہ پیدا ہو جائے گی اور اس کا ہر فعل خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والا بن جائے گا۔پس ایک مومن جب اپنی غلطیوں پر نظر رکھتے ہوئے ، اپنا محاسبہ کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہو گا ، اس کے آگے جھک رہا ہوگا، دعائیں کر رہا ہو گا تو یہ دن یقینا اس میں انقلابی تبدیلی پیدا کرنے والا دن ہوگا۔پس ہر احمدی کو چاہئے کہ ان دنوں کو اپنی زندگیوں کو سنوارنے کا ذریعہ بنالیں اور خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بن جائیں۔ایک روایت میں ہے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص محض اللہ دونوں عیدوں کی راتوں میں عبادت کرے گا اس کا دل ہمیشہ کے لئے زندہ کر دیا جائے گا اور اس کا دل اس وقت بھی نہیں مرے گا جب سب دنیا کے دل مر جائیں گے۔(ابن ماجه کتاب الصيام۔باب فى من قام في ليلتي العيدين) پس دیکھیں ، رمضان کی تبدیلیوں کو جو پاک تبدیلیاں دل میں پیدا ہوتی ہیں ان کو مستقل بنانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے خوبصورت انداز میں ترغیب دلائی ہے۔عید کی خوشیوں میں اکثر لوگ بھول جاتے ہیں، اگلے جمعے عید بھی آتی ہے ) کہ نماز بھی وقت پر پڑھنی ہے کہ نہیں ، تو رات کی عبادت کی طرف، نوافل کی طرف توجہ دلا کر یہ بتا دیا کہ فرائض تو تم نے پورے کرنے ہی ہیں لیکن اگر ہمیشہ کی رضا اور خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنی ہے تو راتوں کو بھی ان دنوں میں عبادت سے سجاؤ۔رمضان کے بعد بھی اور خاص طور پر ایسے موقعوں پر جب خوشی کے موقعے ہوتے ہیں۔جب آدمی کو دوسری طرف توجہ زیادہ ہورہی ہوتی ہے۔صرف ڈھول ڈھمکوں اور دعوتوں میں ہی نہ وقت گزار دو۔پس یہ عبادتیں جو ہیں یہ زندگی کا مستقل حصہ بننی دعاؤں کے سلسلے میں چند اور احادیث ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ کس طرح ہمیں