خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 506
خطبات مسرور جلد سوم 506 خطبه جمعه 19 اگست 2005 ء ایک چھوٹی سی بدظنی کی وجہ سے بھی خاندانوں میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے، رشتوں میں دوریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔عہد یداروں کے خلاف نفرتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔عہد یداروں کے دلوں میں لوگوں کے خلاف نفرتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ امَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنّ ( الحجرات : (31) کہ اے لوگو! جو ایمان لائے ہوظن سے بکثرت اجتناب کیا کرو۔کیونکہ بعض ظن گناہ ہوتے ہیں۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے چھوٹی سے چھوٹی سطح پر بھی بدظنی سے بچنے کے نمونے دکھائے ہیں تا کہ کسی کمزور ایمان والے کے لئے ٹھوکر کا باعث نہ ہو۔آپ اس پیارے انداز میں نصیحت فرماتے تھے کہ دوسرا شخص نہ صرف نصیحت کا اثر لیتا تھا بلکہ شرمندہ بھی ہوتا تھا۔روایت میں ایک واقعہ کا ذکر آتا ہے جو بظاہر چھوٹا سا ہے لیکن آپ نے برداشت نہ کیا کہ آپ جو معلم اخلاق ہیں آپ کے بارے میں کسی فاسد دل میں کوئی خیال پیدا ہو جس سے دوسروں کو مخالفین کو باتیں کرنے کا موقع ملے۔حضرت ام المومنین صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت علی اللہ ایک دفعہ اعتکاف میں تھے۔میں رات کے وقت آپ سے ملنے آئی۔کچھ دیر باتیں کرتی رہی۔جب واپس جانے کے لئے اٹھی تو حضور صلی اللہ بھی کچھ دور چھوڑنے کے لئے میرے ساتھ تشریف لے گئے۔ہم دونوں جا رہے تھے کہ پاس سے دو انصاری گزرے۔جب انہوں نے آنحضرت علی اللہ کو عليه وسلم دیکھا تو تیزی سے آگے نکل گئے۔آنحضور علی یا اللہ نے ان کو فرمایا بھہر وہ یہ میری بیوی صفیہ ہے۔اس پر ان انصاری نوجوانوں نے عرض کیا: سبحان اللہ ! معاذ اللہ ! کیا ہم آپ پر بد گمانی کر سکتے ہیں۔آپ نے فرمایا شیطان انسان میں اس طرح سرایت کر جاتا ہے جس طرح خون رگوں میں چلتا ہے۔مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں کوئی بدگمانی پیدا نہ ہو اور تم ہلاک نہ ہو جاؤ۔(بخاري - كتاب الاعتكاف - باب هل يخرج المعتكف لحوائجه) یقیناً آپ کے نور فراست نے بھانپ لیا ہو گا کہ ان لوگوں کے سامنے اظہار ضروری ہے اس لئے کر دینا چاہئے ورنہ یہ کہیں کسی قسم کی بات کر دیں اور پھر فتنہ پیدا ہو۔اور اپنے ماننے والوں