خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 443
خطبات مسرور جلد سوم 443 خطبہ جمعہ 22 جولائی 2005 ء علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سامنے قائم فرمائیں یہ اس لئے ہیں کہ ہم بھی اپنے مہمانوں کی مہمان نوازی کے اُسی طرح حق ادا کرنے والے ہوں۔اسی طرح جو ہمارے سامنے مثالیں جو قائم کی گئی تھیں۔اگلے جمعہ سے انشاء اللہ تعالیٰ جماعت احمد یہ برطانیہ کا جلسہ سالانہ شروع ہو رہا ہے۔باہر سے مہمان ہمیشہ آتے ہیں۔اب بھی انشاء اللہ آئیں گے۔U۔K سے مختلف جگہوں سے بھی آئیں گے۔بلکہ بیرونی ممالک کے اکثر مہمان تو آنے بھی شروع ہو گئے ہیں۔بہت سے ہیں جو اپنے عزیزوں کے ہاں ٹھہرے ہوں گے۔جو تو قریبی عزیز ہیں وہ تو اپنے مہمانوں کی، والدین کی، بھائیوں کی خدمت کرتے ہیں اور کرنی چاہئے۔مہمان نوازی کے حق ادا کرنے چاہئیں۔دور سے لوگ آتے ہیں۔لیکن بعض دفعہ یہ بھی ہے کہ کوئی واقف کار یا عزیز یا کسی تعارف کی وجہ سے وہ کسی کے گھر ٹھہر گیا ہے تو ہمیشہ کی طرح اپنی روایات کو قائم رکھتے ہوئے ان کی مہمان نوازی کے پورے حق ادا کریں۔اور اس طرح بعض لوگ ہیں جو جماعتی انتظام کے تحت ٹھہرے ہوئے ہیں اور جماعت کا جو انتظام ہے یہ عارضی کا رکنان کے سپرد ہوتا ہے۔اس لئے بعض دفعہ یوں بھی ہو جاتا ہے کہ نئے آنے والے اور ناتجربہ کار معاونین ( کیونکہ نئے شامل ہوتے رہتے ہیں، بعض دفعہ ڈیوٹیاں بدلتی رہتی ہیں)۔وہ مہمان نوازی کے حق کو پوری طرح سمجھ نہیں سکتے۔اس لئے اُن پر بھی منتظمین کی نظر رہنی چاہئے کہ کوئی ایسی بات نہ ہو جائے جو مہمان کی دل آزاری کا باعث ہو، اس کی کسی تکلیف کا باعث ہو۔اور جو اپنے گھروں میں مہمان رکھنے والے ہیں وہ بھی اور جماعتی انتظام کے تحت جو مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ کبھی کوئی ایسی بات نہ ہو جو کسی مہمان کے لئے تکلیف کا یا دل دکھانے کا باعث بنے۔برطانیہ کے مقامی لوگ جو جلسے پر آئیں گے دو تین دن کے لئے ٹھہریں گے۔جلسہ سننے کے بعد چلے جائیں گے۔لیکن باہر سے آنے والے جو خرچ کر کے آتے ہیں ان میں سے بہت سارے ایسے ہیں جن کو بڑی مشکل سے ویزے ملے اور خرچ کر کے آتے ہیں۔اس لئے کم از کم پندرہ دن تو ان کو ٹھہرنے کا حق ہے اور پندرہ دن ان کی مہمان نوازی بھی کرنی چاہئے اور کی جاتی ہے۔لیکن بعض دفعہ جو گھروں میں