خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 437
خطبات مسرور جلد سوم 437 خطبہ جمعہ 22 جولائی 2005ء کرنے لگے۔وہ عیسائی جب کہ ایک کوس نکل گیا تو اس کو یاد آیا کہ اس کے پاس جو سونے کی صلیب تھی وہ چار پائی پر بھول آیا ہوں۔اس لئے وہ واپس آیا تو دیکھا کہ حضرت اس کے پاخانہ کو رضائی پر سے خود صاف کر رہے ہیں۔اس کو ندامت آئی اور کہا کہ اگر میرے پاس یہ ہوتی تو میں کبھی اس کو نہ دھوتا۔اس سے معلوم ہوا کہ ایسا شخص کہ جس میں اتنی بے نفسی ہے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔پھر وہ مسلمان ہو گیا۔“ (ملفوظات جلد 3 صفحه 370-371 جدید ایڈیشن - الحکم 17 جولائی 1903ء صفحہ 15 16 ) دیکھیں کیا کیا مثالیں ہیں جو ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نمونے میں دکھائیں۔پھر جب کثرت سے وفود آنے لگے تو ان کی مہمان نوازی کا بھی آپ اہتمام فرماتے تھے۔اس طرح کہ ایک وفد کو آپ نے انصار کے سپرد کیا اور فرمایا ان کا خیال رکھنا اور اچھی طرح مہمان نوازی کرنا اور پھر اگلے دن اس وفد کے افراد سے پوچھا کہ تمہارے بھائیوں نے تمہاری صحیح طرح مہمان نوازی کی ہے؟ سب نے کہا کہ واقعی انہوں نے مہمان نوازی کا حق ادا کر دیا ہے اور بہترین بھائی ثابت ہوئے ہیں۔انہوں نے ہمارے لئے عمدہ کھانے کا انتظام کیا اور ہمارے لئے نرم بستر بچھائے پھر ہمیں قرآن وسنت کی باتیں بھی سکھائیں۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت خوشی کا اظہار فرمایا۔تو جیسا کہ پہلے حدیث میں ذکر آچکا ہے کہ آپ مہمانوں کی ظاہری مہمان نوازی کے ساتھ ان کی روحانی تربیت کی طرف بھی توجہ دیا کرتے تھے۔اور یہی کچھ آپ نے صحابہ کو سکھایا تھا۔جیسا کہ اس میں ذکر آتا ہے کہ صبح نماز کے وقت آپ نے نماز کے لئے جگایا۔تو اسی اسوہ پر عمل کرتے ہوئے صحابہ بھی اپنے مہمانوں کی مادی اور روحانی دونوں غذاؤں کا خیال رکھا کرتے تھے۔پھر آپ نے ایک وفد کی خود مہمان نوازی اپنے ہاتھوں سے کی۔صرف اس لئے کہ فرمایا کہ ابتدائے اسلام میں جب مجبور اور مظلوم مسلمانوں پر مکہ میں زیادتیاں ہو رہی تھیں تو ان کے ہم قوموں نے اس وقت مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا تھا۔غرض ہر موقع پر آپ اس تلاش میں ہوتے تھے کہ کس طرح مہمان کی خدمت کا موقع ہاتھ آئے اور یہی نصیحت آپ صحابہ کو فرمایا کرتے