خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 164 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 164

خطبات مسرور جلد سوم 164 خطبہ جمعہ 18 / مارچ 2005ء چنا نچہ اس قرض کا ایک روایت میں ذکر آتا ہے کہ عبداللہ الھو زنی بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حلب میں ملا اور نبی کریم ﷺ کے آمد و خرچ کی بابت سوال کیا کہ کس طرح آمد ہوتی تھی ، کس طرح خرچ ہوتا تھا؟ تو بلال کہنے لگے کہ آنحضور ﷺ کی وفات تک یہ سارا انتظام ، آمد و خرچ کا حساب کتاب، یہ میرے سپر دہی ہوتا تھا۔اور اس طرح ہوتا تھا کہ جب بھی کوئی مسلمان کپڑوں سے عاری ہے یا کوئی ضرورت مند ہے اور آپ کے پاس آتا تو آپ مجھے حکم فرماتے اور میں اس کو کپڑا خرید دیتا یا اس کی ضرورت پوری کر دیتا۔کھانے کی ضرورت ہوتی یا کوئی اور جو بھی انتظام ہوتا۔اور حضرت بلال کہتے ہیں کہ بعض دفعہ رقم نہیں ہوتی تھی اس کے لئے اگر مجھے قرض بھی لینا ہوتا تھا تو میں لے لیا کرتا تھا۔تو ایک دن ایک مالدار مشرک مجھے ملا اور کہنے لگا کہ اے بلال! میں صاحب استطاعت ہوں! مجھے توفیق ہے تم کسی اور سے کیوں قرض لیتے ہو، جب ضرورت ہو مجھ سے لے لیا کرو۔تو کہتے ہیں میں اس سے قرض لینے لگ گیا۔تو ایک روز میں وضو کر رہا تھا کہ وہی شخص کچھ اور تاجروں کے ہجوم میں میرے پاس آیا اور مجھے دیکھتے ہی بڑی رعونت سے کہنے لگا کہ اے حبشی ! تمہیں علم ہے کہ میرا قرض چکانے کے دن قریب آ گئے ہیں، چند دن باقی رہ گئے ہیں۔تو میں نے کہا ہاں مجھے پتہ ہے۔بہر حال اس نے بڑے سخت الفاظ میں کہا کہ میں ان دنوں کے اندر اندر اپنا قرض واپس لے کے رہوں گا اور نہ تم میری نوکری کرو گے اور میری بکریاں چراؤ گے اور میری غلامی میں آجاؤ گے۔تو بہر حال بلال کہتے ہیں کہ میرے دل پر اس بات کا بڑا اثر ہوا۔اس کی یہ باتیں مجھے بڑی بری لگیں۔عشاء کی نماز کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ فلاں مشرک سے اتنا قرض لیا تھا، لوگوں کی ادائیگیوں اور ضرورتیں پوری کرنے کے لئے ، اب آج اس نے مجھے قرض کی ادائیگی کے لئے بڑا سخت برا بھلا کہا ہے۔ابھی کچھ دن رہتے ہیں۔اور حالت یہ ہے کہ نہ آپ کے پاس کچھ ہے اور نہ میرے پاس ہے کہ قرض کی ادائیگی کا کچھ انتظام کر سکیں۔تو میرے ذہن میں یہی خیال آتا ہے کہ میں کچھ دنوں کے لئے جب تک ادا ئیگی کا انتظام نہیں ہو جاتا کسی مسلمان قبیلہ کی طرف چلا جاتا ہوں۔تو کہتے ہیں کہ میں یہ کہہ کر اپنے گھر آ گیا اور تیاری کرنے لگا۔جوتی