خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 100
خطبات مسرور جلد سوم 100 خطبہ جمعہ 18 فروری 2005ء جبریل میرے پاس آئے اور کہا کہ یہ نصف شعبان کی رات ہے اس رات میں اللہ تعالیٰ ایک بھیٹر کے بالوں کی تعداد کے برابر لوگوں کو آگ سے نجات بخشتا ہے۔یعنی کثرت سے نجات بخشتا ہے۔اس رات میں اللہ تعالیٰ نہ کسی مشرک پر نظر کرتا ہے اور نہ کسی کینہ پرور پر۔ند قطع رحمی کرنے والے پر اور نہ تکبر سے کپڑے لٹکانے والے پر۔اور نہ والدین کی نافرمانی کرنے والے پر اور نہ کسی شراب خور پر تو حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ حضور نے جو چادر اوڑھ رکھی تھی وہ اتاری اور مجھے فرمایا کہ اے عائشہ! کیا تو مجھے اجازت دیتی ہے کہ میں آج کی باقی رات بھی عبادت میں گزاروں۔میں نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان۔ضرور۔تب حضور نے نماز شروع کی اور اتنا لمبا سجدہ کیا کہ مجھے وہم ہوا کہ شاید آپ کا دم نکل گیا ہے۔کہتی ہیں: میں نے ٹول کر آپ کے پاؤں کو چھوا تو آپ کے پاؤں میں حرکت پیدا ہوئی۔میں نے آپ کو سجدے میں دعائیں کرتے سنا۔صبح حضور نے فرمایا کہ جو دعائیں میں رات سجدے میں کر رہا تھاوہ جبریل نے مجھے سکھائی تھیں اور مجھے حکم دیا تھا کہ میں سجدوں میں ان کو بار بار دہراؤں۔(تفسير الدر المنثور - تفسير سورة دخان۔آیت نمبر 4) اب بتائیے کوئی کہ کیا اس محسن انسانیت جیسا کوئی اور ہے جو ساری ساری رات اپنے رب کے حضور لوگوں کے لئے مغفرت مانگتے ہی گزار دیتا ہے بخشش مانگتے ہی گزار دیتا ہے۔اپنے رب کے عشق میں سرشار ہے اور اس کی مخلوق کی ہمدردی نے بھی بے چین کر دیا ہے۔اپنی رات کی نیند کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہے اپنی سب سے چہیتی بیوی کے قرب کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے۔خواہش ہے تو صرف یہ کہ میرا اللہ مجھ سے راضی ہو جائے اور اس کی مخلوق عذاب سے بچ جائے۔کیا ایسے شخص کے بارے میں کوئی کہہ سکتا ہے۔کہ وہ نعوذ باللہ دنیا کی رنگینیوں میں ملوث تھا۔آپ کی راتیں کس طرح گزرتی تھیں اس کی ایک اور گواہی دیکھیں۔حضرت ام سلمیٰ فرماتی ہیں کہ آپ کچھ دیر سوتے پھر کچھ دیر اٹھ کر نماز میں مصروف ہوتے۔پھر سو جاتے ، پھر اٹھ بیٹھتے اور نماز ادا کرتے۔غرض صبح تک یہی حالت جاری رہتی۔(ترمذی کتاب فضائل القرآن باب ماجاء كيف كان قراءة النبي (ﷺ)