خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 79 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 79

خطبات مسرور جلد سوم 79 خطبہ جمعہ 11 فروری 2005ء کسی میں تھوڑی بہت غلطی بھی ہو، کمی بھی ہو تو پردہ پوشی کر سکتے ہیں ، درگزر کر دیتے ہیں۔لیکن اس کے علاوہ کون سی گواہیاں ہیں۔اس کے لئے ہم دیکھتے ہیں کہ دشمن بھی جو گواہی آپ کے بارے میں دیتا ہے وہ تو ایسی گواہی ہے جس کو کسی طرح رو نہیں کیا جاسکتا۔چنانچہ اس کی ایک مثال آپ کے اشد ترین دشمن نضر بن حارث کی گواہی ہے۔ایک مرتبه سرداران قریش جمع ہوئے جن میں ابو جہل اور اشد ترین دشمن نضر بن حارث بھی شامل تھے۔تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جب کسی نے یہ کہا کہ انہیں جادو گر مشہور کر دیا جائے یا جھوٹا قرار دے دیا جائے تو نضر بن حارث کھڑا ہوا اور کہنے لگا۔اے گروہ قریش! ایک ایسا معاملہ تمہارے پلے پڑا ہے جس کے مقابلے کے لئے تم کوئی تدبیر بھی نہیں لا سکے۔محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) تم میں ایک نوجوان لڑکے تھے اور تمہیں سب سے زیادہ محبوب تھے۔سب سے زیادہ سیچ بولنے والے تھے۔تم میں سب سے زیادہ امانتدار تھے۔اب تم نے ان کی کنپٹیوں میں عمر کے آثار دیکھے اور جو پیغام وہ لے کر آئے تم نے کہا وہ جادوگر ہے۔ان میں جادو کی کوئی بات نہیں۔ہم نے بھی جادو گر دیکھے ہوئے ہیں۔تم نے کہا وہ کا ہن ہے۔ہم نے بھی کا ہن دیکھے ہوئے ہیں۔وہ ہر گز کا ہن نہیں ہیں۔تم نے کہا وہ شاعر ہیں، ہم شعر کی سب اقسام جانتے ہیں وہ شاعر نہیں ہے۔تم نے کہا وہ مجنون ہے، ان میں مجنون کی کوئی بھی علامت نہیں ہے۔اے گروہ قریش ! مزید غور کر لو کہ تمہار واسطہ ایک بہت بڑے معاملے سے ہے۔(السيرة النبوية لابن هشام مادار بین رسول الله ﷺ وبين رؤساء قريش۔نصيحة النصر لقريش بالتدبر۔۔۔۔۔۔۔) پھر دیکھیں ایک اور گواہی جو دشمنوں کے سردار ابو جہل کی ہے۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ابو جہل نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ہم تمہیں جھوٹا نہیں کہتے۔البتہ ہم اس تعلیم کو جھوٹا سمجھتے ہیں جو تم پیش کرتے ہو۔جب عقل پر پردے پڑ جائیں کسی کی مت ماری جائے تو تبھی تو وہ ایسی باتیں کرتا ہے۔اسی لئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم کچھ تو عقل کرو۔کیا ایک سچا آدمی جھوٹی تعلیم دے سکتا ہے۔سچا آدمی تو سب سے پہلے اس جھوٹی