خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 77
خطبات مسرور جلد سوم 77 خطبہ جمعہ 11 فروری 2005ء بچھایا اور حجر اسود کو اس چادر پہ رکھ دیا۔پھر آپ نے فرمایا ہر قبیلہ اس چادر کا ایک کو نہ پکڑ لے۔پھر سب مل کر حجر اسود کو اٹھاؤ۔چنانچہ انہوں نے ایسے ہی کیا۔یہاں تک کہ جب وہ حجر اسود جہاں رکھنا تھا اپنی اس جگہ پر پہنچ گیا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کو اپنے ہاتھ سے اس کی جگہ پر نصب فرما دیا۔(السيرة النبوية لابن هشام حديث بنيان الكعبة۔۔۔اشارة ابى امية بتحكيم اول داخل فكان رسول الله ) تو جیسا کہ اس وقت کفار نے ، قریش کے سرداروں نے آپ کو امین کہا تھا۔یہ دعویٰ سے بہت پہلے کا قصہ ہے، جوانی کا قصہ ہے۔اور امین بھی وہی ہوتا ہے جو بیچ پر قائم رہنے والا ہو۔کبھی کوئی جھوٹا شخص امانت دار نہیں ہوسکتا۔تو دیکھیں اس بات سے سرداران قریش میں آپ کا ایک مقام تھا۔اگر آپ دنیا داروں کی طرح سرداری یا لیڈری چاہتے تو اس مقام کی وجہ سے وہ حاصل کر سکتے تھے۔لیکن آپ کو تو اس چیز سے کوئی غرض نہیں تھی۔پھر دیکھیں انہیں جوانی کے ایام کی بات ہے۔جب حضرت خدیجہ نے آنحضور علی کی صدق بیانی اور امانتداری اور اعلیٰ اخلاق کا حال سن کر اپنا مال آپ کو دے کر تجارت کے لئے آپ کو روانہ کیا۔اس سفر میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے غلام میسرہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔واپسی پر میسرہ نے سفر کے حالات بیان کئے تو حضرت خدیجہ نے ان سے متاثر ہو کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو شادی کا پیغام بھجوایا۔کہ آپ قرابت داری کا خیال رکھتے ہیں، قوم میں معزز ہیں، امانتدار ہیں اور احسن اخلاق کے مالک ہیں اور بات کہنے میں بچے ہیں۔(السيرة النبوية لابن هشام حديث تزویج رسول الله ﷺ خديجة رضى الله عنها) تو سچائی اور امانتداری کے اعلیٰ معیار جو آپ نے اس وقت جوانی کے وقت میں قائم کئے تھے۔تجارتی سفر میں اپنے ساتھیوں کو دکھائے تھے۔اور وہ غلام جو آپ کے ساتھ تھا وہ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور آپ کا گرویدہ ہو گیا۔واپس آ کے اپنی مالکن کو بتایا کہ کیسا ایمانداراورسچا شخص ہے۔پھر بیوی کی گواہی ہے۔بیویاں جو اپنے خاوند کے اچھے برے کی راز دار ہوتی ہیں، وہی