خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 73 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 73

خطبات مسرور جلد سوم 73 5 خطبہ جمعہ 11 / فروری 2005ء آنحضرت صلی اللہ علیم کا خلق عظیم صدق وسچائی خطبہ جمعہ فرموده 11 فروری 2005ء بمقام مسجد بیت الفتوح۔مورڈن، لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت قرآنی کی تلاوت کی :۔قُل لَّوْ شَاءَ اللهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلَا أَدْرِيكُم بِهِ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (يونس :17) پھر فرمایا:۔انبیاء دنیا میں مبعوث ہوتے ہیں تو لوگوں کو اپنی گزشتہ زندگی کا حوالہ دے کر یہ کہتے ہیں، قوم کے لوگوں کو چیلنج دیتے ہیں کہ یہ جو ہماری زندگی تمہارے سامنے گزری اس میں ہمارا جو کردار بھی تمہیں نظر آئے گا یا نظر آیا وہ یہی نظر آئے گا کہ سچ بات پر قائم رہے اور بیچ کہا اور بیچ پھیلانے کی کوشش کی۔اور اس وصف کے اعلیٰ ترین معیار ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نظر آتے ہیں۔آپ کی زندگی کا ہر لحہ اس اعلیٰ خلق کے نور سے منور تھا۔آپ کا ہر عمل، ہر فعل، دعوئی نبوت سے پہلے بھی سچائی اور حق گوئی سے سجا ہوا تھا۔تبھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے اس اعلیٰ خلق کی مثال دیتے ہوئے کفار کو مخاطب کر کے اس آیت میں جو میں نے تلاوت کی ہے فرمایا ہے کہ تو کہہ