خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 68 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 68

خطبات مسرور جلد سوم 68 خطبہ جمعہ 14 فروری 2005ء گوارا نہ کیا کہ کسی مشرک سے اللہ تعالیٰ کے نام پر لڑی جانے والی جنگ میں مدد لی جائے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت عمرؓ ایک دفعہ اپنے والد کی قسم کھا رہے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پکار کر فرمایا کہ سنو اللہ تمہیں اپنے باپوں کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے۔جسے قسم کھانے کی ضرورت پیش آئے وہ اللہ کی قسم کھائے یا پھر خاموش رہے۔(بخاری کتاب الادب باب من لم ير اكفار من قال ذالك متأولا او جاهلا) اوّل تو بعض لوگوں کو ذرا ذراسی بات پر اللہ کی قسم کھانے کی عادت ہوتی ہے۔عام رواج پڑ گیا ہے۔یہ اس طرح قسمیں کھانی بھی نہیں چاہئیں۔بعض حالات میں بعض مجبوریوں کے تحت قسم کھانی پڑتی ہے تو اس وقت کھائی جائے اور یہ ذہن میں ہو کہ اللہ تعالیٰ کو میں اس میں گواہ بنا رہا ہوں۔آپ کو یہ کسی بھی صورت میں برداشت نہیں تھا کہ جو اللہ تعالیٰ کا حق ہے اس کے قریب کوئی انجانے میں بھی آسکے۔پھر اگر کہیں سے ہلکا سا شائبہ بھی ہوتا کہ بعض عمل شرک کی طرف لے جانے والے ہیں آپ اس کو سختی سے رد فرمایا کرتے تھے۔قبروں پر دعا کے لئے جانے کی تو آپ نے اجازت دی لیکن یہ برداشت نہیں تھا کہ وہاں دیئے وغیرہ جلائے جائیں۔بعض لوگ دیئے جلاتے ہیں موم بتیاں جلاتے ہیں۔تو ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے قبروں کی زیارت کرنے والوں پر لعنت کی ہے جنہوں نے ان قبور کو غیر اللہ کی عبادت اور دیئے جلانے کی جگہ بنایا ہوا ہے۔( ترمذى كتاب الصلوة باب ما جاء في كراهية ان يتخذ على القبر مسجدا | آج دیکھیں ہمارے ملکوں میں مسلمان کہلانے والے بھی یہ حرکتیں کر رہے ہیں۔وہ بزرگ جوخود تو تو حید کے قیام میں کوشش کرتے رہے لیکن ان کے نام پر شرک ہوتا ہے۔ان سے منتیں مانگی جاتی ہیں، ان سے خواہشات پوری کرنے کی فریاد کی جاتی ہے، چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں اور یہ واقعات ہیں اور ہوتے ہیں۔ایک عورت نے بتایا کہ اس کی کوئی عورت واقف تھی۔اس کے پاس ایک بیٹا تھا۔وہ کہتی یہ بیٹا مجھے داتا صاحب نے دیا ہے۔میں نے کہا خدا کا خوف کرو ( کہنے لگی کہ نہیں پہلے میں اللہ تعالیٰ سے مانگتی رہی نمازوں میں دعائیں کرتی رہی مجھے